صیّاد تو امکانِ سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مِرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادرِ منصب،،، تِرا شوقِ گُلِ تازہ
شاعر کا تِرے‘ دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے
جس دِن سے شُمار اپنا پناہ گیروں میں ٹھہرا
اُس دِن سے تو لگتا ہے،،، کہ گھر کاٹ رہا ہے
کِس شخص کا دِل مَیں نے دُکھایا تھا، کہ اب تک
وُہ میری دُعاؤں کا ــــــــــــ اَثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سِکھائے
دستار کے ہوتے ہُوئے‘ سر کاٹ رہا ہے