۔۔۔
مرے نقش گر! مرے کوزہ گر!مجھے مت بنا ، یہیں توڑ دے
اسی خاک میں مجھے خاک کر، مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
جو گداءِ کوچہءِ یار ہیں، میں تو اُن کے قدموں کی خاک ہوں
مرا سر جھکا ہوا مت اُٹھا!مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
مرے مالکا ! مجھے یہ بتا کہ تُو اور کتنا رُلائے گا؟
ہو ملاحظہ ذرا چشمِ تر! مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
وہ محبتیں ، وہ حماقتیں ، وہ رفاقتیں،وہ ریاضتیں
ذرا بھول جانے دے سر بسر، مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
مجھ سے چھین لے سب مرا، نہ تُو یاد کر، نہ ہی یاد آ!
ذراسُن لے عرضی ءِ مختصر! مجھے میرے حال پہ چھوڑ دے
…