سوال : نفس کے شر سے اور شیطان سے کیسے بچا جا سکتا ہے ۔۔۔؟
جواب : اگر آپکے عمل کا امام امرِالٰہی ہے تو آپ نفس سے بچ گئے ۔
اگر عمل کا امام تمہاری اپنی ذاتی انا ہے تو تم شرِ نفس سے بچ نہیں سکتے ۔
شیطان کی تعریف یہ ہے کہ وسوسہ ڈالنا ، دین میں وسوسہ ۔ وسوسہ ہوتا ہے زندگی کو اللّہ کے حکم سے علیحدہ خیال دینا ۔
ا گر آپ اللّہ کی رضا کے مطابق عمل شروع کر دیں گے تو پھر نفس جو ہے آپ پر عمل نہیں کرے گا اور شیطان سے آپ محفوظ رہیں گے ۔
اور اگر غرور نہیں ہے ، اور اگر آپ لوگوں پر Comparatively اپنا آپ Assertنہیں کرتے تو آپ شیطان سے بچ گئے ۔
اگر آپ باپ کے سادہ لوح ہونے کے باوجود اس کا حکم پورے طور پر مانتے ہیں تو سمجھو کہ شیطان آپ پر غالب نہیں آئے گا ۔
شیطان یہ وسوسہ دیتا ہے کہ انا خیر منہ، یعنی میں اس سے بہتر ہوں ۔
جب آپ یہ کہتے جائیں گے کہ میں اس سے بہتر ہوں تو یہ شیطان ہے ۔
اور اگر یہ کہیں گے کہ “وہ مجھ سے بہتر ہے تو یہ فقرہ ہے اپنے ایمان کا Brother thy need is greater than mine
اگر کوئی گمراہ ہے اور آپ راہ والے ہیں ۔ تو اب یہ آپکی ذمہ داری بن گیا ہے ، بات سمجھے ؟
بجائے اس کے کہ اس گمراہ سے نفرت کرو ، اسے ساتھ لے کے چلو ۔
لہٰذا کسی کو گمراہ کہنے سے پہلے اپنی راہبری دکھا ۔ جو شخص دوسرے کو گمراہ کہتا ہے اور راستہ نہیں دکھاتا ، وہ خود گمراہ ہے ۔
شیطان سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ ، یہ فقرہ دل میں ، کبھی نہ آئے کہ ، اٙنٙا خیرُ مِنہ ۔ کہ میں اس سے بہتر ہوں ۔
شیطان سے بچنے کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جس نعمت پر تمہیں فخر یا خوشی ہوتی ہے ، اس نعمت کو لوگوں کے استعمال میں آنے دو ،
اگر تم پیسے والے ہو تو اپنا پیسہ غریبوں کے کام آنے دو۔ اس طرح شیطان سے بچ جاو گے ۔
شیطان وسوسہ پیدا کرے گا _ آپ کے دین میں آپ کا اعتبار ختم کر دے گا _ شیطان عام طور پر ایک آدمی کے روپ میں ہوتا ہے جو تمہیں Tickle کرتا رہتا ہے ۔ اس کو چھوڑ دو ۔
شیطان سے بچنے کا آسان طریقہ ہے ذکر ۔
کہتے ہیں ذکر میں انہماک ایک ایسی چیز ہے کہ شیطان بھاگ جاتا ہے اور نفس بھی کنٹرول ہو جاتا ہے ۔
نفس کو کنٹرول کرنے کا ، تزکیہ نفس کا آسان طریقہ کیا ہے ؟
ذکر ۔۔۔ ذکر میں گم ہو جانا ۔
تیری یاد میں ہوا جب سے گم ، تیرے گمشدہ کا یہ حال ہے
کہ نہ دُور