گہرا نہیں ہے زخم مگر سل نہیں رہا

کھونے نہیں دیا ہےجسے مِل نہیں رہا
گہرا نہیں ہے زخم مگر سِل نہیں رہا

ایسا نہیں کہ سینے میں اب دل نہیں رہا
عالم خود آپ شوق کے قابِل نہیں رہا

مختارِ کُل کہے ہے کہ غافِل نہیں رہا
بستی میں جُز خرابی کے کچھ مِل نہیں رہا

اثبات ِ ذات حجلہء ویراں میں کر تلاش
ہنگامہ اب وسیلہء واصِل نہیں رہا

ڈھے سا گیا ہوں پیری سے پہلے مثالِ خس
اور اس لیے کہ مدِ مقابِل نہیں رہا

ہے اشک سے قرینہ ء دیدار کو نشاط
رونق نہیں کہ رونق ِ محفِل نہیں رہا

کارِ حیات زینہ ء رد و قبول ہے
موجوں میں آگیا ہوں تو ساحل نہیں رہا

اب روٶں جبر کو یا ہنسوں اختیار پر
اٹھا قدم تو لاٸق ِ منزِل نہیں رہا

تقسیم ہی سےملتی نہ تھیں فرصتیں مجھے
خوش ہوں کہ میرے ہاتھ مرا دِل نہیں رہا

تم مجھ سے کہہ رہے ہو کروں زیر کاٸنات
میرے لیے تو عشق بھی مشکل نہیں رہا

مت گاٸیے فضول یہاں طاٸران ہجر
اب نوحہ ان کو نغمہء کامل نہیں رہا

بین السطور شوق ِ اذیت تو دیکھٸیے
ان کو گلہ ہے مجھ سے کہ بسمِل نہیں رہا

اک شعر کارگاہ ِ تخیل میں قید ہے
اک پھول کوکھ میں ہے مگر کِھل نہیں رہا
فرحت عباس شاہ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top