یوں بھی کٹ گئے کچھ دن تیرے سوگواروں کے۔۔۔

اس طرف سے گُزرے تھے قافِلے بہاروں کے
آج تک سلُگتے ہیں زخم رہ گُزاروں کے

خِلوتوں کے شیدائی خِلوتوں میں کِھلتے ہیں
ہم سے پُوچھ کر دیکھو راز پردہ داروں کے

گیسوؤں کی چھاؤں میں دل نواز چہرے ہیں
یا حسیں دُھندلکوں میں پُھول ہیں بہاروں کے

پہلے ہنس کے مِلتے ہیں پِھر نظر چُراتے ہیں
آشنا صِفت ہیں لوگ اجنبی دیاروں کے

تُم نے صِرف چاہا ہے ہم نے چُھو کے دیکھے ہیں
پیرہن گھٹاؤں کے جِسم برق پاروں کے

شُغل مے پرستی گو جشنِ نامُرادی تھایُوں بھی کٹ گئے کُچھ دن تیرے سوگواروں کے..رؔ

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top