گیت۔۔۔۔

اشفاق صاحب فرماتے ہیں کہ صبح سویرے شاخ پر بیٹھا پرندہ جب چہچہاتا ہے یا گیت گاتا ہے، تو وہ دنیا کو کوئی تازہ خبر نہیں سنا رہا ہوتا، نہ ہی اس کے پاس اخبار کا کوئی ضمیمہ یا کوئی سرکاری اعلان ہوتا ہے جسے سنا کر وہ داد سمیٹنا چاہتا ہو۔ وہ تو بس اپنے اندر امڈتے ہوئے وجدان، خوشی اور اس خالقِ حقیقی کی دی ہوئی دھن کو بے ساختہ فضا میں بکھیر رہا ہوتا ہے کیونکہ اس کے اندر ایک گیت موجود ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح، جب ایک بندہ اپنے رب کا ذکر کرتا ہے یا اس کی حمد و ثناء بیان کرتا ہے، تو وہ دنیا کو کچھ ثابت کرنے یا کوئی خبر پہنچانے کے لیے نہیں کرتا، بلکہ اس کے دل کی گہرائیوں میں بھی اس پرندے کی طرح اپنے مالک کے نام کا ایک گیت بس رہا ہوتا ہے۔ یہ ذکر، یہ عبادت اور یہ گیت کسی غرض، نمائش یا مقصد کے مرہونِ منت نہیں ہوتے، بلکہ یہ تو روح کی وہ اندرونی پکار اور قلبی جذبہ ہے جو بغیر کسی دنیاوی حساب کتاب کے خود بخود زبان پر جاری ہو ۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top