میرے دکھ میں کراہنے والے۔۔۔۔

میرے دُکھ میں کراہنے والے
شعلہ سامانِ جذبۂ جاں سوز
حَرمِ عشق کے نیاز آموز

جادۂ بندگی کے تُند خرام
عشق میں خود سپردگی کے نام

میری اصلاح ہے تجھے منظور
یعنی ڈھے جائے میرا قصرِ غرور

نہ رہے مجھ میں خویشتن داری
ہو انا،نذرِ ناز برداری

اپنی اصلاح کر رہا ہوں میں
پندگر !لے بکھر رہا ہوں میں

ہاں مگر ایک بات کہنی ہے
پھر تری بحث آکے سہنی ہے

اے وفا کے مبلّغ اور نقیب
خوے تسلیم کے مسیحِ صلیب

تُونے کیا پا لیا وفا کر کے؟
ہاں!ذرا میرا سامنا کر کے

کر کے مسمار اپنا قصرِ انا
داورِ حرف! تُو مِٹا کہ بنا؟

ناز برداریوں کے آزاری
مجھ کو بھی پندِ ناز برداری؟

تیشہ ور خوب تھی وہ شیریں خُو
ہاں بھلا کیوں لہولہان ہے تُو؟

یوں ہی یوسف بنا تھا دیوانے
اُنگلیاں کاٹ دیں زلیخا نے؟

دوسری اِک مثال بھی سُن لے
ذکرِ امکانِ حال بھی سُن لے

یعنی شیوہ مری زلیخا کا
زخم جلتا ہے دل میں فردا کا

وہی خاطر،وہی خرام نہ ہو
یہ بھی اس زہر ہی کا جام نہ ہو

جس نے تجھ کو ہلاک کر ڈالا
اور مجھے سہم ناک کر ڈالا

زخم چابوں کہ خون تھوکوں میں
کیسے ممکن ہے سَر جھُکا دوں میں

میں ہوں یا تُو ہو،لازوال ہیں ہم
خالقِ حُسنِ خدّ و خال ہیں ہم

ہم سے ہیں،عشوہ ہاے عشق انگیز
ہم ہیں یزدانِ دہرِ خوباں خیز

سُن!حقیقت کہاں،مجاز کہاں؟
ہم کہاں،سجدۂ نیاز کہاں؟

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top