دسمبرمجھے راس آتا نہیں
کئی سال گزرے!
کئی سال بیتے!
شب وروز کی گردِشوں کا تسلسل
دل وجاں میں سانسوں کی پرتیں الٹتے ہوئے
زلزلوں کی طرح ہانپتا ہے
چٹختے ہوئے خواب!
آنکھوں کی نازک رگیں چھیلتےہیں
مگر میں ہر اک سال کی گود میں جاگتی صبح کو
بیکراں چاہتوں سے اَٹی زندگی کی دعا دے کر
ابھی تک وہی جستجو کا سفر کر رہا ہوں
گزرتا ہوا سال جیسے بھی گزرا
مگر سال کے آخری دن
نہایت کٹھن ہیں
مرے ملنے والو!
نئے سال کی مسکراتی ہوئی صبح
اگر ہاتھ آئے تو ملنا
کہ جاتے ہوئے سال کی ساعتوں میں
یہ بجھتا ہوا دل دھڑکتا تو ہے
مسکراتا نہیں
دسمبر مجھے راس آتا نہیں!
محسن نقوی