آئینہ بن کر کبھی۔۔۔

آئینہ بن کر کبھی اُن کو بھی حیراں دیکھیے
اپنے غم کو اُن کی صُورت سے نمایاں دیکھیے

اس دیارِ چشم و لب میں دل کی یہ تنہائیاں
اِن بھرے شہروں میں بھی شامِ غریباں دیکھیے

عُمر گُزری دل کے بُجھنے کا تماشا کر چُکے
کس نظر سے بام و در کا چراغاں دیکھیے؟

دیکھیے اب کے برس کیا گُل کِھلاتی ہے بہار
کتنی شِدت سے مہکتا ہے گُلِستاں دیکھیے

اے مُنیرؔ اِس انجمن میں چشمِ لیلٰی کا خیال
سردیوں کی بارشوں میں برق لرزاں دیکھیے…!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top