دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیں
اِتنا خیال اُس کا ہمیں ـــــــ اِس برس نہیں
دیکھو گُلِ بہار اثر دشتِ شام میں ـــــــــــ
دیوار و در کوئی بھی کہیں پیش و پس نہیں
آیا نہیں یقین ، بہت دیر تک ہمیں
اپنے ہی گھر کا در ہے یہ بابِ قفس نہیں
ایسا سفر ہے ، جس کی کوئی اِنتہا نہیں
ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں
آئے گی پھر بہار اِسی شہر میں مُنیرؔ
تقدیر اِس نگر کی فقط خار و خس نہیں
شاعر : مُنیرؔ نیــازی