تقدیر اس نگر کی فقط خار و خس نہیں۔۔۔۔

دل کا سفر بس ایک ہی منزل پہ بس نہیں
اِتنا خیال اُس کا ہمیں ـــــــ اِس برس نہیں

دیکھو گُلِ بہار اثر دشتِ شام میں ـــــــــــ

دیوار و در کوئی بھی کہیں پیش و پس نہیں

آیا نہیں یقین ، بہت دیر تک ہمیں

اپنے ہی گھر کا در ہے یہ بابِ قفس نہیں

ایسا سفر ہے ، جس کی کوئی اِنتہا نہیں

ایسا مکاں ہے جس میں کوئی ہم نفس نہیں

آئے گی پھر بہار اِسی شہر میں مُنیرؔ

تقدیر اِس نگر کی فقط خار و خس نہیں

شاعر : مُنیرؔ نیــازی

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top