وہ قول وہ سب قرار۔۔۔

ا

وہ قول وہ سب قرار ٹوٹے
دل جن سے مآلِ کار ٹوٹے

ہو ختم کشاکشِ زمانہ
یا دامِ خیالِ یار ٹوٹے

پھر تجھ پہ یقیں کر رہے ہیں
وہ دل جو ہزار بار ٹوٹے

کھائیں گے فریب ہم خوشی سے
پر ، یوں کہ نہ اعتبار ٹوٹے

کانپ اٹھے فراز دونوں عالم
جب سازِ وفا کے تار ٹوٹے
احمد فراز

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top