<span;>ہمارے ڈپریشن کی سب سے بڑی وجہ۔۔۔۔۔۔۔۔ہم لمحہ موجود کو مانتے ہی نہیں۔۔۔۔یا تو ماضی میں گم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہائے!!!!!! وہ کیا دن تھے۔۔۔۔ہم یوں رہتے تھے۔۔۔۔ہم یہ کرتے تھے۔۔۔۔ابا نے ایسا کیا۔۔۔اماں ے یہ کہنا۔۔۔۔۔ہائے وہ بے فکری کے دن ۔۔۔۔۔دوست احباب کا جمگھٹا۔۔۔۔اسی یوں، یہاں، فلاں میں ہم موجود زندگی میں، حاصل وقت میں ہوتے ہوئے بھی گزرے وقت کو زندہ کرنے کی کوشش میں موجودہ وقت کی خوبصورتی کو دیکھ ہی نہیں پاتے۔۔۔۔۔اس سے سوائے پریشانی، دکھ، رنج، بے بسی کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔۔۔۔۔ یا پھر دوسری طرف ہمیں یہ سوچیں بے چین رکھتی ہیں کہ پتا نہیں ہمارا آنے والا وقت کیسا ہوگا؟؟؟؟ نجانے میرے بچوں کی آئندہ زندگی کیسی ہوگی؟؟؟ نجانے میرے بچے میرے بعد زندگی میں کیسے سروائیو کریں گے؟؟؟ نہیں معلوم ان کو زندگی کے ساتھی کیسے ملیں گے۔۔۔۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔ زرا سوچیں۔۔۔۔جب آپ اس دنیا میں نہیں ہوں گے پھر بھی تو بچوں نے زندگی آگے بڑھانی ہے ۔۔۔۔۔بلکہ جب اپنے سر پر ہو تو انسان زیادہ بہتر طریقے سے اپنی پلاننگ کرتا ہے کیونکہ اب ساری ذمہ داری اس کی اپنی ہے۔۔۔۔۔۔۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہم چیزوں، حالات و واقعات اور لوگوں کو کنٹرول کرنے کی کوشش میں لگے ہوتے ہیں جس سے کچھ حاصل نہیں ہوتا سوائے مایوسی، نا امیدی اور دکھ کے ۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے اس بات کو سمجھ لیں کہ ایک ہے کل جو بیت چکا۔۔۔۔جس کو واپس پلٹنا ناممکن۔۔۔۔ایک ہے کل جس نے آنا ہے معلوم نہیں ہم اس میں ہوں گے بھی یا نہیں۔۔۔۔۔اور ان دونوں کے درمیان میں ہے پل۔۔۔۔۔ جس میں ہم جی رہے ہیں اگر ذہنی سکون چاہتے ہیں، خوش رہنا چاہتے ہیں، زندگی سے لطف اندوز ہونا چاہتے ہیں تو موجودہ پل میں رہیں۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں ناں کہ، ،کبھی کبھی آنسو 😢 اس لئے بھی آ جاتے ہیں کہ ہم گزرے ہوئے پلوں کو دوبارہ جی نہیں سکتے، ،، تو کیا بہتر نہیں کہ ہم موجودہ پل کو خوش ہو کر گزار لیں؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہنستے مسکراتے رہیں۔۔۔ ارے ہم نے کون سا یہاں صدیاں گزار دینی ہیں۔۔۔۔۔۔