آج یوں موج در موج۔۔۔۔۔
آج یُوں موج در موج غم تھم گیا اِس طرح غم زدوں کو قرار آ گیا جیسے خوشبُوئے زلفِ بہار آ گئی ، جیسے پیغامِ دیدارِ یار آ گیا جِسکی دید و طلب وہم سمجھے تھے ہم رُوبرو پھر سرِ رہگزار آ گیا صبحِ فردا کو پھر دِل ترسنے لگا ، عمرِ رفتہ تِرا اعتبار […]
اس بے وفا کا شہر ہے۔۔۔۔۔۔
اشکِ رواں کی نہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو اُس بے وفا کا شہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ہے ، اور ہم ہیں دوستو لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس برکھا کی رُت کا قہر ہے ، اور […]
میرے دل کو کس کا ملال تھا؟۔۔۔۔
مُجھے ایسا لُطف عطا کیا، جو نہ ہجر تھا نہ وصال تھا !! میرے موسموں کے مزاج داں، تُجھے میرا کتنا خیال تھا !! کِسی اور چہرے کو دیکھ کر، تیری شکل ذہن میں آگئی !! تیرا نام لے کے مِلا اُسے، میرے حافظے کا یہ حال تھا !! کبھی موسموں کے سراب میں، کبھی […]
میرے حافظے میں رہنا۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ حدیں نہ توڑ دینا ، میرے دائرے میں رہنا مجھے اپنے دل میں رکھنا ، میرے حافظے میں رہنا کبھی دھوپ کہ نگر میں میرا ساتھ چھوڑ جانا کبھی میرا عکس بن کر میرے آئینے میں رہنا کبھی منزلوں کی صورت میری دسترس سے باہر کبھی سنگ میل بن کر میرے راستے میں رہنا […]
یہ نگری سنسان۔۔۔۔۔۔
گھر واپس جب آؤ گے تم کون تمہیں پہچانے گا کون کہے گا ، تم بن ساجن یہ نگری سنسان بن دستک دروازہ گم سم، بن آہٹ دہلیز سُونے چاند کو تکتے تکتے راھیں پڑ گئی ماند کون کہے گا، تم بن ساجن یہ نگری سنسان کون کہے گا تم بن ساجن کیسے کٹے دن […]
تمہارے خط میں۔۔۔۔۔۔
داغ دہلوی تمہارے خط میں نیا اِک سلام کس کا تھا نہ تھا رقیب تو آخر وہ نام کس کا تھا وہ قتل کر کے مجھے ہر کسی سے پوچھتے ہیں یہ کام کس نے کیا ہے، یہ کام کس کا تھا وفا کریں گے، نباہیں گے، بات مانیں گے تمہیں بھی یاد ہے کچھ، […]
نگار شام غم میں تجھ سے۔۔۔۔
نگارِ شام غم مَیں تجھ سے رخصت لینے آیا ہُوں گلے مِل لے کہ یوں مِلنے کی نوبت پھر نہ آئے گی سرِ راہ ہے جو ہم دونوں کہیں مل بھی گئے تو کیا یہ لمحے پِھر نہ لَوٹیں گے یہ ساعت پھر نہ آئے گی جَرس کی نغمگی آوازِ ماتم ہوتی جاتی ہَے غضب […]
تم ہو۔۔۔۔۔۔
پیار اک پھول ہے اس پھول کی خوشبو تم ہو میرا چہرہ، میری آنکھیں، میرے گیسو تم ہو دور ہو مجھ سے مگر پاس نظر آتے ہو میرا جذبہ، مرا احساس نظر آتے ہو زندگی بن کے جو چھایا ہے وہ جادو تم ہو میرا چہرہ، میری آنکھیں، میرے گیسو تم ہو جب بھی تنہائی […]
وہی قصے۔۔۔۔
وہی قصے ہیں وہی بات پرانی اپنی کون سنتا ہے بھلا رام کہانی اپنی ہر ستمگر کو یہ ہمدرد سمجھ لیتی ہے کتنی خوش فہم ہے کمبخت جوانی اپنی روز ملتے ہیں دریچے میں نئے پھول کھلے چھوڑ جاتا ہے کوئی روز نشانی اپنی تجھ سے بچھڑے ہیں تو پایا ہے بیاباں کا سکوت! ورنہ […]
بھیجی ہیں۔۔۔۔
جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیں ہمارا دل ہے، اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں، بھلی نہیں لگتیں وہ ساری یادیں جو تم کو رُلائیں، بھیجی ہیں سیاہ رنگ، چمکتی ہوئی کناری ہے پہن لو اچھی لگیں گی، گھٹائیں بھیجی ہیں تمہارے خواب سے ہر شب لپٹ کے سوتے ہیں سزائیں […]