جل جاتے ہیں۔۔۔۔۔
گرمئی حسرتِ ناکام سے جل جاتے ہیں ہم چراغوں کی طرح شام سے جل جاتے ہیں شمع جس آگ میں جلتی ہے نمائش کے لئے ہم اسی آگ میں گمنام سے جل جاتے ہیں بچ نکلتے ہیں اگر آتشِ سیال سے ہم شعلۂ عارضِ گلفام سے جل جاتے ہیں خود نمائی تو نہیں شیوۂ اربابِ […]
اعتراف
مصطفٰی زیدی نے اپنی شریکِ حیات ” ویرا زیدی ” کے نام لکھی۔ ” اعتراف ” تیرے کرم نے ، مجھے کر لیا قبول مگر میرے جُنوں سے ، محبت کا حق ادا نہ ہوا تیرے غموں نے ، میرے ہر نشاط کو سمجھا میرا نشاط ، تیرے غم سے آشنا نہ ہوا کہاں کہاں […]
شام آئی۔۔۔۔
شام آئی، تری یادوں کے ستارے نکلے رنگ ھی غم کے نہیں ، نقش بھی پیارے نکلے ایک موھوم تمّنا کے سہارے نکلے چاند کے ساتھ ترے ھجر کے مارے نکلے کوئی موسم ھو مگر شانِ خم و پیچ وھی رات کی طرح کوئی زُلف سنوارے نکلے رقص جن کا ھمیں ساحل سے بھگا لایا […]
تمنا پھر مچل جائے
تمنا پھر مچل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ جاوید اختر تمنا پھر مچل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ یہ موسم بھی بدل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ مجھے غم ہے کہ میں نے زندگی میں کچھ نہیں پایا یہ غم دل سے نکل جائے اگر تم ملنے آ جاؤ یہ دنیا بھر […]
کبھی۔۔۔۔۔۔
” کبھی یہ دعویٰ کہ وہ میرا ہے فقط میرا کبھی یہ ڈر کہ وہ مُجھ سے جُدا تو نہیں🌸 کبھی یہ دُعا کہ اُسے مِل جائیں سارے جہاں کی خوشیاں کبھی یہ خوف کہ خوش وہ میرے بِنا تو نہیں کبھی یہ تمنّا کہ بَس جاؤں اُس کی نگاہوں میں کبھی یہ ڈر کہ […]
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا۔۔۔۔۔
کبھی کتابوں میں پھول رکھنا کبھی درختوں پہ نام لکھنا ہمیں بھی ہے یاد آج تک وہ نظر سے حرف سلام لکھنا وہ چاند چہرے وہ بہکی باتیں سُلگتے دن تھے مہکتی راتیں وہ چھوٹے چھوٹے سے کاغذوں پر مُحبتوں کے پیام لکھنا گُلاب چہروں سے دل لگانا وہ چُپکے چُپکے نظر ملانا وہ آرزوؤں […]
ماں
#ماں اگر کبھی تُم اُداس راتوں میں خیمہ زن ہو یا اوس پڑتی مسافتوں میں محسوس تم کو کبھی تھکن ہو اپنے اندر کی وحشتوں میں تمہارا سہما ہوا بدن ہو تو ایک ہستی جو ہے زمیں پر وہ لم یلد کا حسین چہرہ تمہارے اندر کی خامشی کو سُنا کرے گی وہ اپنے لہجۂ […]
زندگی سے اب تو گھبراتے ہیں ہم
دل کو پھر کاکل میں الجھاتے ہیں ہم سر پہ پھر روزِ سیہ لاتے ہیں ہم جب تری فرقت میں گھبراتے ہیں ہم سر کو دیواروں سےٹکراتے ہیں ہم یاد آتے ہیں وہ عارض پھول سے باغ میں جاجا کے گل کھاتے ہیں ہم اے اجل آچک خدا کے واسطے زندگی سے اب تو گھبراتے […]
بازی راہ طلب جیت کے ہاری کیسے
اتنے چپ کیوں ہو، رفیقانِ سفر کچھ تو کہو درد سے چُور ہوئے ہو کہ قرار آیا ہے بھر گیا ہجر کا ہر زخم کہ جی ہار چلے بجھ گیا شوق کہ پیغامِ نگار آیا ہے نا مرادی کی تھکن ہے کہ خمارِ شبِ وصل جاں سلگتی ہے کہ چہروں پہ نکھار آیا ہے کتنی […]
کہنے کو میرا اس سے کوئی واسطہ نہیں
کہنے کو میرا اُس سے کوئی واسطہ نہیں امجد مگر وہ شخص مجھے بُھولتا نہیں ڈرتا ہُوں آنکھ کھولوں تو منظر بدل نہ جائے مَیں جاگ تو رہا ہُوں مگر جاگتا نہیں آشفتگی سے اُس کی اُسے بے وفا نہ جان عادت کی بات اور ہے دِل کا بُرا نہیں صاحبِ نظر سے کرتا ہے […]