کیا ملا؟۔۔۔۔
عذاب دید میںآنکھیں لہو لہو کر کے میں شرمسار ہوا تیری جستجو کر کے سنا ہے شہر میں زخمی دلوں کا میلہ ہے چلیں گے ہم بھی مگر پیرہن رفو کر کے یہ کس نے ہم سے لہو کا خراج پھر مانگا ابھی تو سوئے تھے مقتل کو سرخرو کر کے اجاڑ رت کو گلابی […]
کبھی۔۔۔۔۔۔
” کبھی یہ دعوا کہ وہ میرا ہے فقط میرا کبھی یہ ڈر کہ وہ مُجھ سے جُدا تو نہیں کبھی یہ دُعا کہ اُسے مِل جائیں سارے جہاں کی خوشیاں کبھی یہ خوف کہ خوش وہ میرے بِنا تو نہیں کبھی یہ تمنّا کہ بَس جاؤں اُس کی نگاہوں میں کبھی یہ ڈر کہ […]
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں۔۔۔
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں نہ کسی کے دل کا قرار ہوں کسی کام میں جو نہ آ سکے میں وہ ایک مشتِ غبار ہوں نہ دوائے دردِ جگر ہوں میں نہ کسی کی میٹھی نظر ہوں میں نہ اُدھر ہوں میں نہ اُدھر ہوں میں نہ شکیب ہوں نہ قرار ہوں مرا […]
خدشہ۔۔۔۔
خدشہ یہ تیری جھیل سی آنکھوں میں رتجگوں کے بھنور یہ تیرے پھول سے چہرے پہ چاندنی کی پھوار یہ تیرے لب یہ دیارِ یمن کے سرخ عقیق یہ آئینے سی جبیں ، سجدہ گاہِ لیل و نہار یہ بے نیاز گھنے جنگلوں سے بال ترے یہ پھولتی ہوئی سرسوں کا رنگ گالوں پر یہ […]
مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو۔۔۔۔۔
تمہیں جب کبھی ملیں فرصتیں مرے دل سے بوجھ اتاردو میں بہت دنوں سے اداس ہوں مجھے کوئی شام ادھار دو مجھے اپنے روپ کی دھوپ دو کہ چمک سکیں مرے خال و خد مجھے اپنے رنگ میں رنگ دو، مرے سارے زنگ اتار دو کسی اور کو مرے حال سے نہ غرض ہے کوئی […]
تھکے جا رہے ہیں۔۔۔۔
در و دیوار تھکتے جا رہے ہیں شریکِ کار تھکتے جا رہے ہیں خزاں کے قہقہے بتلا رہے ہیں گل و گلزار تھکتے جا رہے ہیں کہانی مختصر کرنا پڑے گی سبھی کردار تھکتے جا رہے ہیں کہیں کچھ ہے کمی اس کی تھکن ہے کہیں انبار تھکتے جا رہے ہیں گنہ گاروں کو کیا […]
بھرے جہاں میں۔۔۔۔
بھرے جہاں میں کوئی میرا یار تھا ہی نہیں کسی نظر کو میرا انتظار تھا ہی نہیں نہ ڈھونڈئیے میری آنکھوں میں رتجگوں کی تھکن یہ دل کسی کے لیے بے قرار تھا ہی نہیں سنا رہا ہوں محبت کی داستاں اس کو میری وفا پہ جسے اعتبار تھا ہی نہیں قتیل کیسے ہواؤں سے […]
کبھی عشق ہو تو پتہ چلے
ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﮯ ﮐﮧ ﺑﺴﺎﻁِ ﺟﺎﮞ ﭘﮧ ﻋﺬﺍﺏ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﺷﺐ ﻭ ﺭﻭﺯ ﺩﻝ ﭘﮧ ﻋﺘﺎﺏ ﺍﺗﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺲ ﻃﺮﺡ ﮐﺒﮭﯽ ﻋﺸﻖ ﮨﻮ ﺗﻮ ﭘﺘﮧ ﭼﻠﮯ ﯾﮧ جو ﻟﻮﮒ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﮭُﭙﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺲِ ﺩﻭﺳﺘﺎﮞ ﺗﻮ ﯾﮧ ﮐﻮﻥ ﮨﯿﮟ ﯾﮧ جو ﺭﻭﮒ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﭼﮭُﭙﮯ ﮨﻮﺋﮯ ﭘﺲِ ﺟﺴﻢ ﻭ ﺟﺎﮞ […]