پھر سے اک بار۔۔۔
پھر سے آنکھوں میں نئے خواب بچھانے ہوں گےسانس جب تک ہے نئے راہ بنانے ہوں گے جو ہمیں بھول گئے ہم کو بھلانے ہوں گےخود کو اب تازہ نئے روگ لگانے ہوں گے روز اک شخص کہانی سے نکل جاتا ہےکتنے کردار اکیلے کو نبھانے ہوں گے دودھ یہ سوچ کے خود روز پلا […]
اداس ہے زندگی
کیا زمانہ تھا ، کہ ہم روز مِلا کرتے تھےرات بَھر، چاند کے ہَمراہ پِھرا کرتے تھے جہاں تنہائیاں سَر پھوڑ کے سو جاتی ہیںاِن مکانوں میں ، عجب لوگ رہا کرتے تھے کر دیا آج زمانے نے اُنہیں بھی مجبُورکبھی یہ لوگ مِرے دُکھ کی دَوا کرتے تھے دیکھ کر جو ہمیں ، چُپ […]
مسافر۔۔۔۔۔
تم حقیقت ہو!اور میرا وجود فقطتمہارے گرد رقص کرتاایک بےچین کردارالمختصر__میں آفت کی زد میں مبتلا اِک تنہا مسافر۔۔۔۔۔!!
انتخاب
غزل (قرۃ العین طاہرہ)ترجمہ :محمد خلیل الرحمٰن گر مجھے حاضری ملے، ’’چہرہ بہ چہرہ، رُو بہ رُو‘‘غم تیرا میں بیاں کروں، ’’نکتہ بہ نکتہ ، مُو بہ مُو‘‘ دِل میں تِری تڑپ لیے، مثلِ صبا میں یوں پھروں’’خانہ بہ خانہ، در بہ در، کوچہ بہ کوچہ، کُو بہ کُو‘‘ تیرے فِراق میں مِری آنکھوں سے […]
بیخود یہی تو دن ہیں عیش و نشاط کے۔۔۔۔
عاشق سمجھ رہے ہیں مجھے دل لگی سے آپواقف نہیں ابھی مرے دل کی لگی سے آپ دل بھی کبھی ملا کے ملے ہیں کسی سے آپملنے کو روز ملتے ہیں یوں تو سبھی سے آپ ہوگا جدا یہ ہاتھ نہ گردن سے وصل میںڈرتا ہوں اڑ نہ جائیں کہیں نازکی سے آپ زاہد خدا […]
اس قدر تھیں مسلسل۔۔۔
اِس قدر مسلسل تھیں شدتیں جدائی کیآج پہلی بار اُس سے مْیں نے بے وفائی کی ورنہ اب تلک یوں تھا خواہشوں کی بارش میںیا تو ٹوٹ کر رویا , یا غزل سرائی کی تج دیا تھا کل جن کو ہم نے تیری چاہت میںآج اُن سے مجبوراً تازہ آشنائی کی ہو چلا تھا جب […]
اسے کہنا۔۔۔۔
اُس سمت چلے ہو تو بس اتنا اُسے کہنااب کوئی نہیں حرفِ تمنا اُسے کہنا اُس نے ہی کہا تھا تو یقیں میں نے کیا تھااُمید پہ قائم ہے یہ دُنیا اُسے کہنا دُنیا تو کسی حال میں جینے نہیں دیتیچاہت نہیں ہوتی کبھی رسوا اُسے کہنا زرخیز زمینیں کبھی بنجر نہیں ہوتیںدریا ہی بدل […]
زندگی نے ہر بار۔۔۔
۔تجربات تلخ نے ہر چند سمجھایا مجھےدل مگر دل تھا اسی محفل میں لے آیا مجھے حسن ہر شے پر توجہ کی نظر کا نام ہےبارہا کانٹوں کی رعنائی نے چونکایا مجھے دور تک دامان ہستی پر دیئے جلتے گئےدیر تک عمر گزشتہ کا خیال آیا مجھے ہر نظر بس اپنی اپنی روشنی تک جا […]
سجدے کیے ہیں پیکر تخلیق کار کو۔۔۔۔۔
حُسْنِ بِرِشْتَہ مل گیا ہے میرے یار کوکیسے سنبھالوں اب میں دلِ بے قرار کو تم زندگی میں آئیں تو کچھ یوں لگا مجھےجیسے بہشت مل گئی ہو خاک سار کو ہمت کہاں تھی دید کی لذت اٹھاسکوںحیرت سے تکتا رہ گیا تجھ شاہکار کو بیدار کرکے تیرے بدن کی حرارتیںمحسوس کرنا ہےمجھے اِس مشک […]
صبح آنکھیں ہیں، شام آنکھیں ہیں
صبح آنکھیں ہیں شام آنکھیں ہیںاب جواب و سلام آنکھیں ہیں چار سُو حسرتوں سے تکتی ہیںہر جگہ تیز گام آنکھیں ہیں جنبشِ ابرو اِنکی کیا کہئیےدلبروں کا پیام آنکھیں ہیں طنز لہجے میں اُنکے جچتا ہےجنکی حسنِ کلام آنکھیں ہیں میر و غالب کو سب سمجھتے ہیںشاعری کی امام آنکھیں ہیں تم نے آنکھوں […]