پرانے دشمن
پرانے دشمن اک سورج ہے جو شام ڈھلے مجھے پرسا دینے آتا ہےان پھولوں کا جو میرے لہو میں کھلنے تھے اور کھلے نہیںان لوگوں کا جو کسی موڑ پر ملنے تھے اور ملے نہیںاک خوشبو ہے جو بستی بستی میرا پیچھا کرتی ہےاور اپنے جی کی بات بتاتے ڈرتی ہےاک دریا ہے جو جنم […]
اداس شامیں، اجاڑ رستے
اداس شامیں ، اجاڑ رستے کبھی بلائیں تو لوٹ آناکسی کی آنکھوں میں رتجگوں کے عذاب آئیں تو لوٹ آنا ابھی نئی وادیوں ، نئے منظروں میں رہ لو مگر مری جاںیہ سارے ایک ایک کرکے جب تم کو چھوڑ جائیں تو لوٹ آنا جو شام ڈھلتے ہی اپنی اپنی پناہ گاہوں کو لوٹتے ھیںاگر […]
کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے۔۔۔۔
کچھ تو احساسِ زیاں تھا پہلےدل کا یہ حال کہاں تھا پہلے اب تو جھونکے سے لرز اٹھتا ہوںنشّۂ خوابِ گراں تھا پہلے اب تو منزل بھی ہے خود گرمِ سفرہر قدم سنگِ نشاں تھا پہلے سفرِ شوق کے فرسنگ نہ پوچھوقت بے قیدِ مکاں تھا پہلے یہ الگ بات کہ غم راس ہے اباس […]
پھر یوں ہوا۔۔۔۔
پھر یوں ہوا.کہ دل کی لگی, دل کو لگ گئیوه مجھے صبر کی عبادت سکھا گیاپھر یوں ہوا.کہ ساتھ تیرا چھوڑنا پڑاثابت ہوا کہ لازم و ملزوم کچھ نہیںپھر یوں ہوا.کہ بات حدوں سے نکل گئیکچھ خواب رنجشوں کی حراست میں مر گئے………..!
تجھے کیا خبر۔۔۔۔
سرِ طاقِ جاں نہ چراغ ہے ، پسِ بامِ شب نہ سحر کوئیعجب ایک عرصہِ درد ہے ، نہ گمان ہے نہ خبر کوئی تجھے کیا خبر ہے کہ رات بھر تجھے دیکھ پانے کو اِک نظررہا ساتھ چاند کے منتظر تری کھڑکیوں سے اُدھر کوئی
دل نہیں لگ رہا محبت میں
سر ہی اب پھوڑیے ندامت میںنیند آنے لگی ہے فرقت میں ہیں دلیلیں تیرے خلاف مگرسوچتا ہوں تیری حمایت میں روح نے عشق کا فریب دیاجسم کو جسم کی عداوت میں اب فقط عادتوں کی ورزش ہےروح شامل نہیں شکایت میں عشق کو درمیاں نہ لاؤ کہ میںچیختا ہوں بدن کی عسرت میں یہ کچھ […]
،،وسوسے۔۔۔
مجھ کو یقین ہے کہ میں جاؤں گا رائیگاں!جانے وہ کون لوگ تھے جو دُکھ نبھا گئے!! جب بھی ہِلے کواڑ تو لگتا ہے تم ہی ہویہ وسوسے تو یار مُجھے یوں ہی کھا گئے!!
دل دکھتا ہے۔۔۔۔۔
دل دکھتا ہےجب زخم دہکنے والے ہوںاور خوشبو کے پیغام ملیںاور اپنے دریدہ دامن کےجب چاک سلیںدل دکھتا ہےجب آنکھیں خود سے خواب بنیںخوابوں میں بسرے چہروں کوجب بھیڑ لگےاس بھیڑ میں جب تم کھو جاؤدل دکھتا ہےجب حبس بڑھے تنہائی کاجب خواب جلیں، جب آنکھ بجھےتم یاد آؤدل دکھتا ہے محسن نقوی
۔۔۔۔چھوڑ دی ہم نے
پرانے دوستوں سے اب مروت چھوڑ دی ہم نےمعزز ہو گئے ہم بھی، شرافت چھوڑ دی ہم نے میسر آ چکی ہے سربلندی مڑ کے کیوں دیکھیںامامت مل گئی ہم کو تو امت چھوڑ دی ہم نے کسے معلوم کیا ہوگا مآل آئندہ نسلوں کاجواں ہو کر بزرگوں کی روایت چھوڑ دی ہم نے یہ […]
میرے حصے میں۔۔۔۔
مرے حصے میں کم کم آ رہا ہےکہاں تو یار بٹتا جا رہا ہے میسر چودھویں کا چاند بھی ہےاماوس کا مزا بھی آ رہا ہے ہمیں اس پھول سے یہ مسئلہ ہےکہ خوشبو چار سو پھیلا رہا ہے بچھڑنے تک یقیں تھا پھر یہ خطرہٹلے گا جس طرح ٹلتا رہا ہے نہ خود کو […]