دل منصف نے کہا ہے۔۔۔
دلِ منصف نے کہا ہے کہ سزا دی جاۓآپ سے پیار کی ہر بات بُلا دی جاۓبے وفاؤں سے بچھڈ کے جو پلٹ کے دیکھےآگ اُس شخص کی آنکھوں کو لگا دی جاۓ خلیل الرحمان قمر
،تم جب مجھے بھول جائو گے۔۔۔۔
جب تم مجھے بھول جاؤ گےمیں اپنے تمام ادھورے کام کروں گیصندوق میں سے گزرے ہوئے موسم کے بستر نکال کردھو کر سکھاؤں گیڈریسنگ ٹیبل کی دراز صاف کروں گیاور فالتو سامان کو کچرے کی ٹوکری میں پھینک دوں گیاپنی آنکھوں پر لگے ہوئے جالے اتاروں گیموبائل فون کا استعمال بڑھا دوں گیاور بھول جاؤں […]
ہم نے پایا تھا مقدر تو سکندر جیسا۔۔۔۔۔
اہلِ دل، دل کی نزاکت سے ہیں واقف ورنہکام لفظوں سے بھی لے سکتے ہیں خنجر جیسا میری وسعت کا بھی اندازہ بہت مشکل ہےایک قطرہ ہی سہی، ہُوں تو سمندر جیسا میں نے اعصاب کو پتھر کا بنا رکھا ہےایک دل ہے کہ جو بنتا نہیں پتھر جیسا ہم فقیروں کو کبھی راس نہ […]
ذرا سی دیر کو منظر سہانے لگتے ہیں۔۔۔۔
ذرا سی دیر کو منظر سہانے لگتے ہیںپھر اس کے بعد یہی قید خانے لگتے ہیں میں سوچتا ہوں کہ تُو دربدر نہ ہو، ورنہتجھے بھلانے میں کوئی زمانے لگتے ہیں کبھی جو حد سے بڑھے دل میں تیری یاد کا حبسکھلی فضا میں تجھے گنگنانے لگتے ہیں جو تُو نہیں ہے تو تجھ سے […]
تجھ سے کھیلی ہیں وہ محبوب ہوائیں۔۔۔۔۔
تجھ سے کھیلی ھیں ، وہ محبُوب ھَوائیں جِن میںاُس کے ملبوس کی ، اَفسردہ مَہک باقی ھےتجھ پہ بھی برسا ھے ، اُس بام سے مَہتاب کا نُورجس میں بیتی ھُوئی راتوں کی کسک باقی ھے تُو نے دیکھی ھے وہ پیشانی ، وہ رُخسار ، وہ ھونٹزندگی جن کے تصّور میں لُٹا دی […]
تو تو اس واسطے مجھ سے ہے اکتایا ہوا۔۔۔۔
تو تو اس واسطے مجھ سے رہے اکتایا ہوامیں میسر ہوں تمہیں رابطے میں آسانی ہے تُو جو بولے تو ہر اک حرف کے سو معنی ہیںتُو نہ بولے تو ہر اک لفظ ہی بے معنی ہے جاں کا کیا ہے بھلے تُو دیکھے مجھے نہ دیکھےاک طرف آنی ہے اور دوجی طرف جانی ہے […]
دل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں۔۔۔۔۔
اب تو اس راہ سے وہ شخص گزرتا بھی نہیںاب کس امید پہ دروازے سے جھانکے کوئی کوئی آہٹ کوئی آواز کوئی چاپ نہیںدل کی گلیاں بڑی سنسان ہیں آئے کوئی پروین شاکر
۔۔۔آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشان۔۔۔
آرزو وصل کی رکھتی ہے پریشاں کیا کیاکیا بتاؤں کہ مرے دل میں ہیں ارماں کیا کیا غم عزیزوں کا حسینوں کی جدائی دیکھیدیکھیں دکھلائے ابھی گردش دوراں کیا کیا ان کی خوشبو ہے فضاؤں میں پریشاں ہر سوناز کرتی ہے ہوائے چمنستاں کیا کیا دشت غربت میں رلاتے ہیں ہمیں یاد آ کراے وطن […]
۔۔۔ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاں
ہائے لوگوں کی کرم فرمائیاںتہمتیں، بدنامیاں، رُسوائیاں
آ جا کہ ابھی ضبط کا موسم نہیں گزرا۔۔۔
آ جا ، کہ ابھی ضبط کا ، موسم نہیں گزراآ جا ، کہ پہاڑوں پہ ابھی برف جمی ھے ! خوشبو کے جزیروں سے ، ستاروں کی حدوں تکاِس شہر میں سب کچھ ھے ، بس تیری کمی ھے حالات دنیا نے کب چاک کیا دل…….؟تیرے ہجر کے غم میں میری سانس تھمی ہے […]