Category: شاعری

شاعری

از مرزا غالب

✍️ : مرزا اسـداللہ خاں غـالب۔📕 : دیوانِ غـالب📝 : صفحـہ نمبـر.. ٢٢٧ کبھی نیکی بھی اس کے جی میں گر آ جائے ہے مُجھ سےجَفـائیں کر کے اپنی یاد شَـرما جائے ہے مُجھ سے خُــدایا جَــذبۂ دِل کی مگـر تاثیر اُلٹی ہےکہ جِتنا کِھینچتا ہُـوں اور کِھنچتا جائے ہے مُجھ سے وہ بَــد خُـو […]

۔۔ابھی ضد نہ کر، دل بے خبر

ابھی ضد نہ کر، دل بے خبرکہ پس ہجوم ستم گراں !ابھی کون تجھ سے وفا کرے؟ابھی کس کو فرصتیں اس قدرکہ سمیٹ کر تیری کرچیاںتیرے حق میں خدا سے دعا کرے !ابھی ضد نہ کر دل بے خبرکہ تہ غبار‌ غم جہاں !کہاں کھو گئے تیرے چارہ گرکہ راہ حیات میں رائیگاںکہاں سو گئے […]

۔۔اب کوئی آئے تو کہنا۔۔۔

اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیایہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو راہ تکتے ہوئے پتھرا سی گئی تھی آنکھیںآہ _ بھرتے ہوئے چھلنی ہوا سینہ یارو ہونٹ جلتے تھے جو لیتا تھا کبھی آپ کا ناماس طرح اور کسی کو نہ ستانا لوگو بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں، […]

۔۔سب مایا ہے۔۔۔

سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہےاس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہےجو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہےسب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئییا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائیبس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہےسب مایا ہےاک […]

از۔۔قتیل شفائی

قتِیل شفائی……. کیسے کیسے بھید چُھپے ہیں پیار بھرے اِقرار کے پیچھےکوئی پتھر تان رہا ہے شیشے کی دیوار کے پیچھے سوچ ابھی سے پھر کیا ہوگا بیت گئی جب رات مِلن کیایک اداسی رہ جائے گی پائل کی جھنکار کے پیچھے دل میں آگ لگا جاتا ہے یہ بن یار بہار کا موسمایک تپش […]

جب بھی چاہا۔۔۔

جب بھی چاھا ، کہ گنگناؤں اسےشاعری پیش پا فتادہ تھی لَعل سے لب ، چراغ سی آنکھیںناک سُتواں ، جبیں کشادہ تھی حدتِ جاں سے ، رنگ تانبا ساساغر افروز ، موجِ بادہ تھی زُلف کو ، ھمسری کا دعویٰ تھاپھر بھی ، خوش قامتی زیادہ تھی یہ غزل دین اُس غزال کی ھےجس […]

لگا کے کاندھے سے ہم کو۔۔۔

لگا کے کاندھے سے ہم کو رلانے والا نہیںجو کہہ گیا ہے کہ آئے گا آنے والا نہیں گزارا کرنا پڑے گا ہمارے دل میں تمہیںیہاں جو پہلے سے رہتا ہے جانے والا نہیں وہ کوئی اور تعلق بنانے بیٹھ گیامیں اٹھ گیا کہ نہیں، گر پرانے والا نہیں ہمارے ساتھ شبِ غم گزارنی ہو […]

Back To Top