”اداسی، ،،
اداسیتم اسے کہنا!ہوا کے ہاتھ میں کچھ نہیں ہےاور صدا ویران پھرتی ہےتیرا بچھڑا ….اجڑے ہوئے شہروں میں اکثر بھاگتا پھرتا ہے اکثر جاگتا پھرتا ہےسو پایا نہیں ہےاور اداسی تم اسے کہناتم ہی دکھ میں نہیں ہوہم بھی اپنی راکھہاتھوں میں لیے اور سسکیاں لیتی ہوئیتنہائیوں میں بین کرتے ہیںاداسی تم اسے کہناتم ہی […]
اسی ڈھلنے ہوئے دن کی منڈیروں پر۔۔۔
اسی ڈھلتے ہوئے دن کی منڈیروں پرچراغِ شام جلتا ہےتو دستِ مہرباں جیسےمِرے آنچل کے کونے سے وفا کاایک لمحہ باندھ دیتا ہےمِرے صحنِ ہنر میں حرف و معنی کیتلاوت سانس لیتی ہےکوئی روشن ستارہ آسماں پہ مسکراتا ہےسمندر گیت گاتا ہےکوئ چپکے سے کہتا ہے مجھے تم سے محبت ہے نوشی گیلانی
ہر زخم کی لو۔۔۔
ہر زخم کی لَو حاصلِ حُسنِ رگِ جاں ہےکچھ دِن سے یہی رسم و رَہِ دل زَدگاں ہے کل تک یہاں زخموں کی نمائش پہ تھی قدغناَب محوِ تماشہ ہی صفِ چارہ گراں ہے گھر کِس نے جلایا ہے‘ کسے کون بتائے؟منصف ہے یہاں آگ‘ گواہوں میں دُھواں ہے اِک پَل کو ٹھہر جائے تو […]
رنج فراق یار میں۔۔۔
رَنجِ فراقِ یار میں رُسوا نہِیں ہُوااِتنا مَیں چُپ ہُوا کہ تماشا نہِیں ہُوا اَیسا سفر ہے ، جس میں کوئی ہمسفر نہِیںرَستہ ہے اِس طرح کا ، جو دیکھا نہِیں ہُوا مُشکل ہُوا ہے رہنا ہمیں اِس دیار میںبرسوں یہاں رہے ہیں یہ اَپنا نہِیں ہُوا وُہ کام شاہِ شہر سے ، یا شہر […]
۔۔۔میں جو مہکا تو میری۔۔۔۔
میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اس نےسبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اس نے پہلے ایک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کواور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اس نے میری ناکام محبت مجھے واپس کر دییوں مرے ہاتھ، میری لاش تھما دی اس نے جانتا تھا کے مجھے موت […]
۔۔۔عشق وہ علم ریاضی ہے
جب خزاں آئے تو پتّے نہ ثَمَر بچتا ھے خالی جھولی لیے ویران شجَر بچتا ھے نُکتہ چِیں ! شوق سے دن رات مِرے عَیب نکال کیونکہ جب عَیب نکل جائیں، ھُنَر بچتا ھے سارے ڈر بس اِسی ڈر سے ھیں کہ کھو جائے نہ یار یار کھو جائے تو پھر کونسا ڈر بچتا ھے […]
دل گیا رونق حیات گئی۔۔۔
دل گیا رونقِ حیات گئیغم گیا ساری کائنات گئی دل دھڑکتے ہی پھر گئی وہ نظرلب تک آئی نہ تھی کہ بات گئی دن کا کیا ذکر تیرہ بختوں میں؟ایک رات آئی ایک رات گئی تیری باتوں سے آج تو واعظوہ جو تھی خواہشِ نجات گئی اُن کے بہلائے بھی نہ بہلا دلرائیگاں سعیِ التفات […]
–۔کج سانوں مرن دا شوق وی سی
کُج شوق سِی یار فقیری داکُج عشق نے دَر دَر رول دِتا کُج سجناں کَسر نہ چُھوڑی سِیکُج زہر رَقیباں گھول دِتا کُج ہجر فِراق دَا رنگ چڑھیاکُج دردِ ماہی انمول دِتا کُج سڑ گئی قسمت میریکُج پیار وِچ یاراں رُول دِتا کُج اونج وِی راہواں اوکھیاں سَنکُج گل وِچ غم داَ طوق وِی سِی […]
“میں جو مہکا تو۔۔۔۔
میں جو مہکا تو میری شاخ جلا دی اس نےسبز موسم میں مجھے زرد ہوا دی اس نے پہلے ایک لمحے کی زنجیر سے باندھا مجھ کواور پھر وقت کی رفتار بڑھا دی اس نے میری ناکام محبت مجھے واپس کر دییوں مرے ہاتھ، میری لاش تھما دی اس نے جانتا تھا کے مجھے موت […]
پہلے تو اپنے دل کی رضا۔۔۔۔
(قتیل شفائی) پہلے تو اپنے دل کی رضا جان جائیےپھر جو نگاہِ یار کہے مان جائیے شاید حضور سے کوئی نسبت ہمیں بھی ہوآنکھوں میں جھانک کر ہمیں پہچان جائیے اک دھوپ سی جمی ہے نگاہوں کے آس پاسیہ آپ ہیں تو آپ پہ قربان جائیے کچھ کہہ رہی ہیں آپ کے سینے کی دھڑکنیںمیرا […]