Category: شاعری

شاعری

“اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹہری ہے “

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےجو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حراماب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصحگفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں […]

جون ایلیا

بہت عیش اُڑاتے ہوں گے بہت اتراتے ہوں گےجانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اُس کو بھاتے ہوں گےاُس کی یاد کی بادِ صبا میں اور تو کیا ہوتا ہو گایونہی میرے بال ہیں بکھرے اور بکھر جاتے ہوں گےوہ جو نہ آنے والا ہے نہ اس سے ہم کو مطلب تھاآنے والوں سے […]

“حیراں ہے آنکھ جلوہ جاناں کو کیا ہوا؟”

حیراں ہے آنکھ جلوۂ جاناں کو کیا ہواویراں ہیں خواب گیسوئے رقصاں کو کیا ہوا ؟ قصرِ حسیں خموش ہے ، ایوان پر سکوتآواز ہائے سروِ خراماں کو کیا ہؤا ؟ پردوں سے روشنی کی کرن پھوٹتی نہیںاس شمع رنگ و بو کے شبستاں کو کیا ہوا ؟ دنیا سیاہ خانۂ غم بن رہی ہے […]

“ایک سوچ عقل سے پھسل گئی

ایک سوچ عقل سے پھسل گئیمجھے یاد تھی کہ بدل گئیمیری سوچ تھی کہ وہ خواب تھامیری زندگی کا حساب تھامیری جستجو کے برعکس تھیمیری مشکلوں کا وہ عکس تھیمجھے یاد ھو تو وہ سوچ تھیجو نہ یاد ھو تو گماں تھامجھے بیٹھے بیٹھے گماں ھواگماں نہیں تھا خدا تھا وہوہ خدا کے جس نے […]

“انتخاب “

سبز پیڑوں کو پتہ تک نہیں چلتا شایدزرد پتے بھرے منظر سے نکل جاتے ہیں🍂اس گزر گاہ محبت میں کہاں آ گیا میںدوست چپ چاپ برابر سے نکل جاتے ہیں میں ترے ہجر سے نکلوں گا تو مر جاؤں گاہائے وہ لوگ جو محور سے نکل جاتے ہیںتوقیر تقی

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی

ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئیمرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیںترے عہد میں […]

میں نے دیکھا تھا اسے

میں نے دیکھا تھا اُن دِنوں میں اُسےجب وہ کھلتے گُلاب جیسا تھا اُس کی پلکوں سے نیند چَھنتی تھیاُس کا لہجہ شراب جیسا تھا اُس کی زُلفوں سے بھیگتی تھی گھٹااُس کا رُخ ماہتاب جیسا تھا لوگ پڑھتے تھے خال و خَذ اُس کےوہ اَدب کی کتابِ جیسا تھا بولتا تھا زبان خُوشبو کیلوگ […]

” کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہے “

کسی نظر کو تیرا انتظار آج بھی ہےکہاں ہو تم کہ یہ دل بے قرار آج بھی ہے وہ وادیاں وہ فضائیں کہ ہم ملے تھے جہاںمیری وفا کا وہیں پر مزار آج بھی ہے نا جانے دیکھ کے کیوں اُنکو یہ ہوا احساسکہ میرے دل پہ اُنہیں اختیار آج بھی ہے وہ پیار جس […]

انتخاب

آہ بن کر دل کے افسانے زباں تک آ گئےآگ بھڑکی تھی کہاں شعلے کہاں تک آ گئے اب تو آ جاؤ کہ رسوا ہو نہ جائے ظرف دلضبط غم کے مرحلے آہ و فغاں تک آ گئے اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا محبت کا صلہمیرے غم کے تذکرے ان کی زباں تک […]

کلام عدم

جلدی نہ کر ، حَواس نہ کھو ، بے اَدب نہ بنتَھم تَھم کے ، سانس لے کے ، سَہاروں کے ساتھ پی انسانیت کا ظرف ، کُشادہ ھے بے حسابسب رِند صَالحین ھیں ، سَاروں کے ساتھ پی محدود نہ کر ، مُشربِ رِندی کو اے عدمغیروں کے ساتھ پی ، کبھی یاروں کے […]

Back To Top