Category: شاعری

شاعری

دنیا

جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہےمل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالمہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانےکس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے یہ وقت جو تیرا ہے […]

“تم جو ٹہر جائو تو “

(فیض احمد فیض ) فیض احمد فیض تم جو پل کو ٹھہر جاؤ تو یہ لمحے بھیآنے والے لمحوں کی امانت بن جائیںتم جو ٹھہر جاؤ تو یہ رات، مہتابیہ سبزہ، یہ گلاب اور ہم دونوں کے خوابسب کے سب ایسے مبہم ہوں کہ حقیقت ہو جائیںتم ٹھہر جاؤ کہ عنوان کی تفصیر ہو تمتم […]

“من و تو”

(احمد فراز) “مَن و تُو” معاف کر مری مستی خُدائے عز و جلکہ میرے ہاتھ میں ساغر ہے میرے لب پہ غزل کریم ہے تو مری لغزشوں کو پیار سے دیکھرحِیم ہے تو سزا و جزا کی حد سے نکل ہے دوستی تو مجھے اذن میزبانی دےتو آسماں سے اتر اور مری زمین پہ چل […]

“کیا کیجیے “

(قتیل شفائی) حقیقت کا اگر افسانہ بن جائے تو کیا کیجےگلے مل کر بھی وہ بیگانہ بن جائے تو کیا کیجے ہمیں سو بار ترکِ مے کشی منظور ہے لیکننظر اس کی اگر میخانہ بن جائے تو کیا کیجے نظر آتا ہے سجدے میں جو اکثر شیخ صاحب کووہ جلوہ، جلوۂ جانانہ بن جائے تو […]

“کچھ بھی نہیں “

(اختر شمار) اُس کے نزدیک غمِ ترکِ وفا کچھ بھی نہیںمطمئن ایسا ھے وہ جیسے کہ ھوا کچھ بھی نہیں اب تو ھاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ھیںاُس کو کھو کر تو میرے پاس رھا کچھ بھی نہیں کل بچھڑنا ھے تو پھر عہدِ وفا سوچ کے باندھابھی آغازِ محبت ھے گیا کچھ بھی […]

“از پروین شاکر “

پروین شاکر ‏زندگی نے ستا کے، حد کر دیمیں نے بھی مسکرا کے، حد کر دی شعر میں نے کہے تھے تیرے لئےتو نے سب کو سنا کے، حد کر دی ‏میں نے ان دیکھے چاہنا تھا تجھےتو نے خوابوں میں آ کے، حد کر دی میں نے اس سے کہا چلے جاؤاور اس نے […]

طبیعت اداس ہے

ساقی شراب لا کہ طبیعت اداس ہےمطرب رباب اٹھا کہ طبیعت اداس ہے چبھتی ہے قلب و جاں میں ستاروں کی روشنیاے چاند ڈوب جا کہ طبیعت اداس ہے شاید ترے لبوں کی چٹک سے ہو جی بحالاے دوست مسکرا کہ طبیعت اداس ہے ہے حسن کا فسوں بھی علاج فسردگیرُخ سے نقاب اٹھا کہ […]

اس سے کہنا

اسے کہنا بچھڑنے سے محبت تو نہیں مرتی . .بچھڑ جانا محبت کی صداقت کی علامت ہے . .محبت ایک فطرت ہے ، ہاں فطرت کب بدلتی ہے . .سو ، جب ہم دور ہو جائیں ، نئے رشتوں میں کھو جائیں . .تو یہ مت سوچ لینا تم ، کہ محبت مر گئی ہو […]

گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ

گئے دِنوں کا سُراغ لے کر ، کِدھر سے آیا ، کِدھر گیا وُہعجیب مانوس اجنبی تھا ، مجھے تو حیران کر گیا وُہ بَس ایک موتی سی چھب دِکھا کربَس ایک میٹھی سی دُھن سُنا کرسِتارۂ شام بن کے آیا ، برنگِ خُوابِ سحر گیا وُہ خوشی کی رُت ہو کہ غَم کا موسمنظر […]

Back To Top