تیرے غم کو جاں کی تلاش تھی
ترے غم کو جاں کی تلاش تھی ترے جاں نثار چلے گئےتری رہ میں کرتے تھے سر طلب سر رہ گزار چلے گئے تری کج ادائی سے ہار کے شب انتظار چلی گئیمرے ضبط حال سے روٹھ کر مرے غم گسار چلے گئے نہ سوال وصل نہ عرض غم نہ حکایتیں نہ شکایتیںترے عہد میں […]
“بوجھ “
بظاہر بوجھ ہیں لیکنہمیں سامان میں رکھ لوکسی بھی موڑ پر جا کرسفر میں تھک کے جب پاؤں تمہارے لڑکھڑائیں گےوہاں ہم کام آئیں گے میثم علی آغا
“بہت دیر لگی “
دل سے جاتے نہیں جو لوگ چلے جاتے ہیںدل کو یہ بات سمجھنے میں بہت دیر لگی زندگی ہم تِرے کُند ذہن سے شاگرد جنہیںکچھ سوالات سمجھنے میں بہت دیر لگی کون دشمن ہے کسے دوست سمجھنا ہے یہاںہم کو حالات سمجھنے میں بہت دیر لگی ہم نے اس کھیل کو بس کھیل کی حد […]
خواب اور خوشبو
”خواب اور خوشبُو“ دونوں ھی آزاد ھیںدونوں قید نہیں کیے جا سکتےمیرے خواب ، تمھاری خوشبو ”پروین شاکر“🥀
میں اکیلا نہیں
(افتخار عارف) ✍️ افتخار عارف۔۔۔۔۔ میانِ عرصۂ موت و حیات رقص میں ہےاکیلا میں نہیں، کل کائنات رقص میں ہے ہر ایک ذرہ، ہر اک پارۂ زمین و زمانکسی کے حکم پہ، دن ہو کہ رات، رقص میں ہے اُتاق ِکُنگرۂ عرش کے چراغ کی لوکسی گلی کے فقیروں کے ساتھ رقص میں ہے سنائیؔ […]
بہار آئی
(فیض احمد فیض) بہار آئی تو جیسے یک بار لوٹ آئے ہیں پھر عدم سے وہ خواب سارے، شباب سارے جو تیرے ہونٹوں پہ مر مٹے تھے جو مٹ کے ہر بار پھر جیئے تھے نکھر گئے ہیں گلاب سارے جو تیری یادوں سے مشکبو ہیں جو تیرے عشاق کا لہو ہیں ابل پڑے ہیں […]
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا
وہ جو ہم میں تم میں قرار تھا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہی یعنی وعدہ نباہ کا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جو لطف مجھ پہ تھے بیشتر، وہ کرم کہ تھا میرے حال پر مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا، تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو کبھی […]
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے
کبھی ہم بھی خوبصورت تھے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔!کتابوں میں بسی خوشبو کی صورتسانس ساکن تھی!بہت سے ان کہے لفظوں سے تصویریں بناتے تھےپرندوں کے پروں پر نظم لکھ کردور کی جھیلوں میں بسنے والے لوگوں کو سناتے تھےجو ہم سے دور تھےلیکن ہمارے پاس رہتے تھے !نئے دن کی مسافتجب کرن کے ساتھ آنگن میں […]
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں
سنا ہے لوگ اسے آنکھ بھر کے دیکھتے ہیں سو اس کے شہر میں کچھ دن ٹھہر کے دیکھتے ہیں سنا ہے بولے تو باتوں سے پھول جھڑتے ہیں یہ بات ہے تو چلو بات کر کے دیکھتے ہیں سنا ہے ربط ہے اس کو خراب حالوں سے سو اپنے آپ کو برباد کر کے […]
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو بدلتے موسموں کی سیر […]