۔۔ابھی ضد نہ کر، دل بے خبر
ابھی ضد نہ کر، دل بے خبرکہ پس ہجوم ستم گراں !ابھی کون تجھ سے وفا کرے؟ابھی کس کو فرصتیں اس قدرکہ سمیٹ کر تیری کرچیاںتیرے حق میں خدا سے دعا کرے !ابھی ضد نہ کر دل بے خبرکہ تہ غبار غم جہاں !کہاں کھو گئے تیرے چارہ گرکہ راہ حیات میں رائیگاںکہاں سو گئے […]
۔۔اب کوئی آئے تو کہنا۔۔۔
اب کوئی آئے تو کہنا کہ مسافر تو گیایہ بھی کہنا کہ بھلا اب بھی نہ جاتا لوگو راہ تکتے ہوئے پتھرا سی گئی تھی آنکھیںآہ _ بھرتے ہوئے چھلنی ہوا سینہ یارو ہونٹ جلتے تھے جو لیتا تھا کبھی آپ کا ناماس طرح اور کسی کو نہ ستانا لوگو بند آنکھیں ہوئی جاتی ہیں، […]
..نیند تو خوب ہے۔۔۔۔
نیند تو خواب ہے اور ہجر کی شب خواب کہاںاِس اماوس کی گھنی رات میں مہتاب کہاں رنج سہنے کی مرے دل میں تب و تاب کہاںاور یہ بھی ہے کہ پہلے سے وہ اعصاب کہاں پروین شاکر
اقتباس از قطرہ قطرہ قلزم
قطرہ قطرہ قلزم زندگی اپنے ہی پردے میں چھپی ہوتی ہے ۔۔۔۔اور اپنے ہی دروازے پر خود ہی دستک دیتی ہے ۔۔۔۔۔ اور خود ہی اندر سے جواب دیتی ہے ۔۔۔۔ یہاں کوئی نہیں ۔۔۔۔ اور اگر کسی نظر کا فیض ہو جائے تو خود ہی خود کو آواز دیتی ہے ۔۔۔۔ اندر آ جاؤ […]
از ممتاز مفتی
ممتاز مفتی نے اپنی کتاب ”لبیک“ میں لکھاہے ” جب 1965ءکی جنگ شروع ہوئی تو مسجد نبویﷺ میں اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں نے رسول اللہ ﷺ کی زیارت فرمائی اور دیکھا کہ حضور ﷺ جنگی لباس میں اصحاب بدر کے ساتھ پاکستانی فوج کی مدد کیلئے تشریف لے جارہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ […]
کیا شان ہے۔۔۔۔
مدینہ کا بازار تھا ، گرمی کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ لوگ نڈھال ہورہے تھے.۔ ایک تاجر اپنے ساتھ ایک غلام کو لیے پریشان کھڑا تھا ۔ غلام جو ابھی بچہ ہی تھا وہ بھی دھوپ میں کھڑ ا پسینہ پسینہ ہورہا تھا ۔.تاجر کا سارا مال اچھے داموں بک گیا تھا بس یہ […]
،،ملے گا، ضرور ملے گا، ،
ملے گا اور ضرور ملے گا مشہور مؤرخ ابن جریر طبری کہتے ہیں کہ میں ایک سال حج کے زمانے میں مکہ مکرمہ میں تھا تو میں نے خراسان ( اس دور میں خراسان‘ ایران اور افغانستان سمیت ارد گرد کے کئی ممالک کو کہا جاتا تھا) سے آئے ہوئے ایک شخص کو یہ اعلان […]
۔۔سب مایا ہے۔۔۔
سب مایا ہے، سب ڈھلتی پھرتی چھایا ہےاس عشق میں ہم نے جو کھویا جو پایا ہےجو تم نے کہا ہے، فیضؔ نے جو فرمایا ہےسب مایا ہے ہاں گاہے گاہے دید کی دولت ہاتھ آئییا ایک وہ لذت نام ہے جس کا رسوائیبس اس کے سوا تو جو بھی ثواب کمایا ہےسب مایا ہےاک […]
از۔۔قتیل شفائی
قتِیل شفائی……. کیسے کیسے بھید چُھپے ہیں پیار بھرے اِقرار کے پیچھےکوئی پتھر تان رہا ہے شیشے کی دیوار کے پیچھے سوچ ابھی سے پھر کیا ہوگا بیت گئی جب رات مِلن کیایک اداسی رہ جائے گی پائل کی جھنکار کے پیچھے دل میں آگ لگا جاتا ہے یہ بن یار بہار کا موسمایک تپش […]
ظلم
عباسی خلیفہ مأمون کو زمانہ طالب علمی میں استاد نے بغیر کسی وجہ کے لاٹھی سے مارا. مأمون شاہی بچہ تھا استاد سے پوچھا کہ مجھے کیوں مارا؟استاد نے جواب دیا ‘خاموش ‘ اگلے کئی دن بھی مأمون وجہ پوچھتا رہا لیکن استاد ایک ہی جواب دیتا تھا ‘ خاموش ‘ بیس سال بعد مأمون […]