دریچے سے دیا جا کر ہٹا دو
مت اپنے ساتھ اس کو بھی سزا دو
وہ لوٹ آئے اگر تو چونک اُٹھے
نشاں تک گھر کا اس جا سے مٹا دو
بہت یکسانیت لگتی ہے اس میں
کہانی میں نیا اب موڑ لا دو
بظاہر درمیاں کُچھ بھی نہیں تھا
مُقدر ہو گیا حائل بتا دو
چُھپا کر اب اُنہیں رکھنے سے حاصل
سب اس کے خط وہ تصویریں جلا دو
مُحبت اِبتدا سے امتحاں لے
تُم اب اس امتحاں کو انتہا دو
کوئی موہوم سے امید لے کر
ذرا منزل کو رستے سے ملا دو
چمن کی زِندگی اب ہے اسی میں
گُلابوں کی جگہ پتھر اُگا دو
مُحبت کو تجارت نام دے کر
خُدا کے قہر کو تو مت صدا دو
اذیت دل کو دیتا ہے مسلسل
میری آنکھوں سے وہ چہرہ ہٹا دو…!