یہ حسین شام۔۔۔

 

یہ حسین شام اپنی
ابھی جس میں گُھل رھی ھے
ترے پیرھن کی خوشبو

ابھی جس میں کِھل رھے ھیں
میرے خواب کے شگوفے

ذرا دیر کا ھے منظر.

ذرا دیر میں افق پہ
کھلے گا کوئی ستارہ
تری سمت دیکھ کر وہ
کرے گا کوئی اشارہ

ترے دل کو آئیگا پھر
کسی یاد کا بلاوا
کوئی قصہء جُدائی
کوئی کار نا مکمل

کوئی خواب نا شُگفتہ
کوئی بات کہنے والی

کسی اور آدمی سے
ھمیں چاھیۓ تھا ملنا
کسی عہدِ مہرباں میں

کسی خواب کے یقیں میں
کسی اور آسماں میں
کسی اور سر زمیں میں.

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top