میں نے جب لکھنا سیکھا تھا۔۔۔

میں نے جب لِکھنا سیکھا تھا
پہلے ، تیرا نام لِکھا تھا

میں وہ صبرِ صمیم ہُوں جس نے
بارِ امانت ، سر پہ لِیا تھا

میں وہ اِسمِ عظیم ہُوں جس کو
جن و ملک نے سجدہ کیا تھا

تُو نے کیوں مرا ہاتھ نہ پکڑا؟
میں جب رستے سے بھٹکا تھا

جو پایا ہے ، وہ تیرا ہے
جو کھویا وہ بھی تیرا تھا

تُجھ بِن ساری عُمر گُزاری
لوگ کہیں گے تُو میرا تھا

پہلی بارِش بھیجنے والے
میں ترے درشن کا پیاسا تھا…!

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Back To Top