ہے فغانِ لالہ و گُل مست نظّاروں کے ساتھ
بُجھ رہی ہے تِشنگی پُھولوں کی انگاروں کے ساتھ
آئے گا شاید عزیز مصر بِکنے کے لیے
آج خود یُوسف کو دیکھا ہے خریداروں کے ساتھ
ہر قدم پر زندگی کی آبرو خطرے میں ہے
ظُلمتوں کے قافلے دیکھے ہیں مہ پاروں کے ساتھ
مُفلسوں پر ہنس رہی ہیں عظمتیں ابلیس کی
اور خُدا کی رحمتیں منسوب زردَاروں کے ساتھ
سَر برہنہ عابدہ کمخواب و ریشم کے بغیر
ناچتی ہے عاصمہ سکّوں کی جھنکاروں کے ساتھ
نغمۂ بُلبُل نہیں ــــــــــ تو نالۂ دِل ہی سہی
مِلتے جُلتے ہیں بیاباں بھی چمن زاروں کے ساتھ