یاد کی راہگزر ، جس پہ اِسی صُورت سے
مدتیں بیت گئی ہیں، تمہیں چلتے چلتے
ختم ہو جائے جو ، دو چار قدم اور چلو
موڑ پڑتا ہے جہاں ، دشتِ فراموشی کا
جس سے آگے نہ کوئی میں ہوں ، نہ کوئی تم یو
سانس تھامے ہیں نگاہیں کہ نہ جانے کس دَم
تم پلٹ آؤ ، گزر جاؤ ، یا مُڑ کر دیکھو
گرچہ واقف ہیں نگاہہں ، کہ یہ سب دھوکا ہے
گر کہیں تم سے ہم آغوش ہوئی ، پھر سے نظر
پُھوٹ نکلے گی وہاں ، اور کوئی راہ گزر
پھر اُسی طرح جہاں ہو گا ، مقابل پیہم
سایۂ زُلف کا ، اور جنبش بازو کا سفر
دُوسری بات بھی جُھوٹی ہے ، کہ دِل جانتا ہے
یاں کوئی موڑ ، کوئی دَشت ، کوئی گھات نہیں
جس کے پردے میں ، میرا ماہِ رواں ڈُوب سکے
تم سے چلتی رہے یہ راہ ، یونہی اچھا ہے
تم نے مُڑ کر بھی نہ دیکھا تو ، کوئی بات نہیں