Category: شاعری

شاعری

سزائیں بھیج دو۔۔۔۔

گلوں کو سننا ذرا تم، صدائیں بھیجی ہیںگلوں کے ہاتھ بہت سی، دُعائیں بھیجی ہیں جو آفتاب کبھی بھی غروب ہوتا نہیںہمارا دل ہے، اسی کی شعاعیں بھیجی ہیں اگر جلائے تمہیں بھی شفا ملے شایداک ایسے درد کی تم کو شعاعیں بھیجی ہیں تمہاری خشک سی آنکھیں، بھلی نہیں لگتیںوہ ساری یادیں جو تم […]

وہ قیامتیں جو گزر گئیں تھیں امانتیں کئی سال کی

  کوئی حَد نہیں ہے ٫ کمال کیکوئی حَد نہیں ہے ٫ جمال کی وہی ٫ قُرب و دُور کی منزلیںوہی شام ٫ خواب و خیال کی نہ مجھے ہی ٫ اُس کا پتہ کوئینہ اُسے خبر ٫ میرے حال کی یہ جواب ٫ میری صَدا کا ہےکہ صَدا ہے ٫ اُس کے سوال کی […]

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہی۔۔۔

آ گئی یاد شام ڈھلتے ہیبجھ گیا دِل چراغ جلتے ہی کُھل گئے شہرِ غم کے دَروازےاِک ذرا سی ہَوا کے چلتے ہی کون تھا تو کہ پھر نہ دیکھا تجھےمِٹ گیا خواب آنکھ مَلتے ہی خوف آتا ہے اپنے ہی گھر سےماہِ شب تاب کے نِکلتے ہی تو بھی جیسے بدل سا جاتا ہےعکسِ […]

رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ۔۔۔

رہتا ہے ساتھ ساتھ وہ جانے کے بعد بھیملبہ وہیں پڑا ہے اٹھانے کے بعد بھی سمجھے تھے ہم کہ آخری دشواریاں ہیں یہاک اور تھا زمانہ ، زمانے کے بعد بھی کر ہجر میں شمار اسے وصل میں نہ لکھآیا نہ اب کی بار وہ آنے کے بعد بھی مجھ سے زیادہ حافظہ ہے […]

خزاں کے دن تھے۔۔۔

تمہارا ہاتھ جب میرے لرزتے ہاتھ سے چھوٹا خزاں کے آخری دن تھےوہ محکم بے لچک وعدہ کھلونے کی طرح ٹوٹا خزاں کے آخری دن تھے بہار آئی نہ تھی لیکن ہواؤں میں نئے موسم کی خوشبو رقص کرتی تھیاچانک جب کہا تم نے مرے منہ پر مجھے جھوٹا خزاں کے آخری دن تھے وہ […]

حساب عمر کا اتنا سا گوشوارہ ہے۔۔۔

حسابِ عمر کا اتنا سا گوشوارا ہےتمہیں نکال کے دیکھا تو سب خسارا ہے کسی چراغ میں ہم ہیں کسی کنول میں ہو تمکہیں جمال ہمارا کہیں تمہارا ہے وہ کیا وصال کا لمحہ تھا جس کے نشے میںتمام عمر کی فرقت ہمیں گوارا ہے ہر اک صدا جو ہمیں بازگشت لگتی ہےنجانے ہم ہیں […]

میری زندگی تو فراق ہے۔۔۔

میری زندگی تو فراق ہے، وہ ازل سے دل میں مکیں سہیوہ نگاہِ شوق سے دور ہیں، رگِ جاں سے لاکھ قریں سہی ہمیں جان دینی ہے ایک دن، وہ کسی طرح ہو کہیں سہیہمیں آپ کھینچئے وار پر، جو نہیں کوئی تو ہمیں سہی سرِ طور ہو سرِ حشر ہو، ہمیں انتظار قبول ہےوہ […]

زندہ ہوں۔۔۔۔۔

یہ جو سینے میں لیے کربِ درُوں زندہ ہوںکوئی امید سی باقی ہے کہ یوں زندہ ہوں شہر کا شہر تماشائی بنا بیٹھا ہےاور میں بن کے تماشائے جنوں زندہ ہوں میری دھڑکن کی گواہی تو میرے حق میں نہیںایک احساس سا رہتا ہے کہ ہوں زندہ ہوں کیا بتاؤں تجھے اسباب جیے جانے کےمجھ […]

بڑی دیر رہا۔۔۔۔

وہ مجھ کو دستیاب بڑی دیر تک رہامیں اُس کا انتخاب بڑی دیر تک رہا چہرے پہ اُتر آئی تھی تعبیر کی تھَکنپلکوں پہ ایک خواب بڑی دیر تک رہا گن گن کے اُس نے جب مجھے احسان جتائےپوروں پہ پھر حساب بڑی دیر تک رہا اک عمر تک میں اس کو بڑا قیمتی لگاوہ […]

پٹھیاں سدھیاں سوچاں

“پُٹھیاں سِدّھیاں سوچاں” ‏ہُن جے مِلے تے روک کے پُچھاںویکھیا ای اَپنا حال؟ کِتھے گئی اوہ رنگت تیری؟تے سَپّاں وَرگی چال گلاّں کردیاں گُوڑہیاں اَکھّاںوا نال اُڈ دے وال؟ کِتھے گیا اوہ ٹھاٹھاں ماردالہُو دا اَنھّاں زور؟ ساہواں وَرگی گرم جوانیلے گئے کیہڑے چور؟ منیر نیازی

Back To Top