اس نے کہا۔۔۔
اس نے کہا سن عہد نبھانے کی خاطر مت آنا عہد نبھانے والے اکثر مجبوری یا مہجوری کی تھکن سے لوٹا کرتے ہیں تم جاؤ دریا دریا پیاس بجھاؤ جن آنکھوں میں ڈوبو جس دل میں بھی اترو میری تنہائی کوئی آواز نہ دے گی لیکن جب میری خوائش اور میری چاہت کی لے اتنی […]
بے دل ہوئے۔۔۔
بے دل ہوئے ، بے دیں ہوئے ، بے وقر ہم ات گت ہوئے بے کس ہوئے ، بے بس ہوئے ، بے کل ہوئے ، بے گت ہوئے ہم عشق میں کیا کیا ہوئے ، اب آخر آخر ہو چکے بے مت ہوئے ، بے ست ہوئے ، بے خود ہوئے ، میّت ہوئے […]
اوجھل سہی نگاہ سے۔۔۔
اوجھل سہی نِگاہ سے ، ڈوبا نہیں ہُوں مَیں اے رات ہوشیار….. کہ ہارا نہیں ہُوں مَیں درپیش صُبح و شام یہی کشمکش ہے اب اُس کا بنوں مَیں کیسے کہ اپنا نہیں ہُوں مَیں مُجھکو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر جتنا بُرا سمجھتے ہو ، اتنا نہیں ہُوں مَیں اِس طرح پھیر پھیر […]
من عشق کی اگنی جلتی ہے
ﻣَﻦ ﻋِﺸﻖ ﮐﯽ ﺍﮔﻨﯽ ﺟﻠﺘﯽ ﮨﮯ ﺗﻢ ﺑَﻨﮩﯿّﺎﮞ ﺗﮭﺎﻣﻮ ﺟﺎﻥ ﭘِﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺭُﻭﭖ ﺳﮩﺎﮔﻦ ﺩﮬﺎﺭَﻥ ﮐﻮ، ﺭﺍﮦ ﺩﯾﮑﮭﻮﮞ ﻧﯿﻨَﻦ ﺗﺎﻥ ﭘِﯿﺎ ﺑﺲ ﺍﯾﮏ ﺟﮭﻠﮏ ﭘﮧ ﺟَﮓ ﺳﺎﺭﺍ، ﺗَﺞ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﯿﭽﮭﮯ ﭼﻞ ﻧِﮑﻠﯽ ﺗﻮ ﻋِﺸﻖ ﻣﯿﺮﺍ، ﺗﻮ ﺩِﯾﻦ ﻣﯿﺮﺍ، ﺗﻮ ﻋِﻠﻢ ﻣﯿﺮﺍ ، ﺍِﯾﻤﺎﻥ ﭘِﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﻧﻨﮕﮯ ﭘَﯿﺮﻭﮞ ﻧَﻘﺶﺗﯿﺮﮮ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﮐﮯ ﭼُﻨﺘﯽ ﺁﺋﯽ ﮨﻮﮞ ﺍﺏ ﺟﺎﻥ […]
گہرا نہیں ہے زخم مگر سل نہیں رہا
کھونے نہیں دیا ہےجسے مِل نہیں رہا گہرا نہیں ہے زخم مگر سِل نہیں رہا ایسا نہیں کہ سینے میں اب دل نہیں رہا عالم خود آپ شوق کے قابِل نہیں رہا مختارِ کُل کہے ہے کہ غافِل نہیں رہا بستی میں جُز خرابی کے کچھ مِل نہیں رہا اثبات ِ ذات حجلہء ویراں میں […]
موج ساحل سے ملو۔۔۔۔
موج ساحل سے ملو یا مہ کامل سے ملو سب سے مل آؤ تو اک بار مرے دل سے ملو دل برباد نے کیا ٹوٹ کے چاہا ہے تمہیں کس قدر پیار سے مرمر سے تراشا ہے تمہیں جب سے دیکھا ہے اسی شوخی سے دیکھا ہے تمہیں سر جھکایا ہے خدا مانا ہے پوجا […]
کچھ اور بھی جاگو کہ وہ شب خیز بہت ہے
اِک موجۂ صہبائے جُنوں تیز بہت ہے اِک سانس کا شیشہ ہے کہ لبریز بہت ہے کچھ دِل کا لہُو پی کے بھی فصلیں ہُوئیں شاداب کچھ یُوں بھی زمیں گاؤں کی زرخیز بہت ہے پلکوں پہ چراغوں کو سنبھالے ہوئے رکھنا اِس ہجر کے موسم کی ہوا تیز بہت ہے بولے تو سہی، جھوٹ […]
مدت سے۔۔۔۔
مدت سے تو دلوں کی ملاقات بھی گئی ظاہر کا پاس تھا سو مدارات بھی گئی کتنے دنوں میں آئی تھی اس کی شب وصال باہم رہی لڑائی سو وہ رات بھی گئی کچھ کہتے آ کے ہم تو سنا کرتے وے خموش اب ہر سخن پہ بحث ہے وہ بات بھی گئی نکلی جو […]
یہ وہ دیار ہے دوستو۔۔۔۔
کہیں اُجڑی اُجڑی سی منزِلیں، کہیں ٹُوٹے پُھوٹے سے بام و در یہ وہی دِیار ہے دوستو! جہاں لوگ پِھرتے تھے رات بھر میں بھٹکتا پِھرتا ہُوں دیر سے ، یونہی شہر شہر، نگر نگر کہاں کھو گیا مِرا قافلہ، کہاں رہ گئے مِرے ہمسفر جنھیں زندگی کا شعُور تھا انھیں بے زری نے بِچھا […]
اپنی دھن میں رہتا ہوں۔۔۔
اپنی دھن میں رہتا ہوں میں بھی تیرے جیسا ہوں او پچھلی رت کے ساتھی اب کے برس میں تنہا ہوں تیری گلی میں سارا دن دکھ کے کنکر چنتا ہوں مجھ سے آنکھ ملائے کون میں تیرا آئینہ ہوں میرا دیا جلائے کون میں ترا خالی کمرہ ہوں تیرے سوا مجھے پہنے کون میں […]