تمہارے سامنے۔۔۔۔
تمہارے سامنے پھر خم کروں جبین ؟ نہیں وہاں پہ کیسی عقیدت جہاں یقین نہیں میں سب سے پوچھتی رہتی ہوں اس کے بارے میں رقیب مجھ سے زیادہ تو دلنشین نہیں ؟ مداری موت کا کرتب دکھانے والا ہے تماشہ گاہ میں لیکن تماشبین نہیں یہاں پہ پل نہیں سکتا تمہارے جیسا کوئی یہ […]
میں کیوں اسے صدا دوں۔۔۔۔
میں کیوں اسے صدائیں دوں مجھ سے کہیں ملے اک آسمانِ عشق سے کیسے زمیں ملے میں پیڑ ہوں مجھے کہاں ہجرت کا حکم ہے موسم کا فرض ہے مجھے آکر یہیں ملے۔ حیراں ہوں میں کہ کیسی یہ جادوئی صفت ہے دل میں رکھے جو لوگ ، پسِ آستیں ملے۔ اپنے غرورِ حسن میں […]
اب درد دل کا کوئی۔۔۔۔۔
اب دردِ دل کا کوئی مداوا نہیں رہا کچھ بھی تمہارے غم کے علاوہ نہیں رہا وہ دن بھی تھے کہ میں بھی بہت خوش لباس تھا اب کیا کہ جب وہ دیکھنے والا نہیں رہا میری دعا ہے تجھ سے یہ دنیا وفا کرے میرا تو تجربہ کوئی اچھا نہیں رہا ماحول میرے گھر […]
تیری صورت نگاہوں میں۔۔۔۔
تیری صورت نگاہوں میں پھرتی رہے عشق تیرا ستائے تو میں کیا کروں کوئی اتنا تو آ کر بتا دے مجھے جب تری یاد آئے تو میں کیا کروں میں نے مانگی تھی یہ مسجدوں میں دعا میں جسے چاہتا ہوں وہ مجھ کو ملے جو مرا فرض تھا میں نے پورا کیا اب خدا […]
تمہاری یاد کا موسم۔۔۔۔۔
تُمھاری یاد کا موسم جو ہر اِک دکھ سے گہرا ہے نجانے کتنی مُدت سے ہمارے مَن میں ٹھہرا ہے مگر تُم نے نہیں دیکھا، مگر تُم نے نہیں جانا تُمھارے پیار کا موسم جو ہر موسم سے پیارا تھا میرے ان بیکراں لمحوں کا واحد سہارا تھا مگر تُم نے نھیں سوچا، مگر تُم […]
دکھائی دئیے یوں۔۔۔
دکھائی دیئے یوں کہ بے خود کیا ہمیں آپ سے بھی جدا کر چلے جبیں سجدہ کرتے ہی کرتے گئی حق بندگی ہم ادا کر چلے بہت آرزو تھی گلی کی تیری سویاں سے لہو میں نہا کر چلے جھڑے پھول جس رنگ گلبن سے یوں چمن میں جہاں کے ہم آ کر چلے نہ […]
اے رنج آگہی۔۔۔۔
اے رنجِ آگہی ، کوئی چارہ تو ہوگا ناں چل، خوش نہ رہ سکیں گے ، گزارا تو ہوگا ناں یہ آرزو بھی وقت کے دھارے میں بہہ گئی اب ناں سہی ، کبھی وہ ہمارا تو ہوگا ناں جاتی ہے جو متاعِ دل و جاں تو کیا ملال یہ عشق کی دکاں ہے ، […]
نبھاتا کون ہے۔۔۔۔
نبھاتا کون ہے قول و قسم تم جانتے تھے یہ قربت عارضی ہے کم سے کم تم جانتے تھے رہا یے کون کس کے ساتھ انجام سفر تک یہ آغاز مسافت ہی سے ہم تم جانتے تھے مزاجوں میں اتر جاتی ہے تبدیلی مری جاں سو رہ سکتے تھے کیسے ہم بہم تم جانتے تھے […]
لہو سے دل کبھی۔۔۔۔
لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لیے میں جی رہا ہوں اندھیروں کو ٹالنے کےلیے اتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر سفر کا بوجھ سمندر میں ڈالنے کےلیے سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کےلیے میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا ترے […]
ہر بات۔۔۔
ہر ایک بات نہ کیوں زہر سی ہماری لگے کہ ہم کو دستِ زمانہ کے زخم کاری لگے اداسیاں ہوں مسلسل تو دل نہیں روتا کبھی کبھی ہو تو یہ کیفیت بھی پیاری لگے بظاہر ایک ہی شب ہے فراقِ یار مگر کوئی گزارنے بیٹھے تو عمر ساری لگے علاج اس دلِ درد آشنا کا […]