Category: شاعری

شاعری

کیسے کیسے لوگ۔۔۔۔

کیسے کیسے لوگ ہمارے جی کو جلانے آ جاتے ہیں اپنے اپنے غم کے فسانے ـــ ہمیں سُنانے، آ جاتے ہیں میرے لیٸے یہ غیر ہیں، اور مَیں ، اُن کیلئے بیگانہ ہُوں پِھر بھی یہ اِک رسمِ جہاں ہے، جسے نبھانے آ جاتے ہیں اُن سے الگ مَیں رہ نہیں سکتا اِس بے درد […]

یار کو ہم نے جابجا دیکھا۔۔۔

یار کو ہم نے جا بجا دیکھا کہیں ظاہر کہیں چھپا دیکھا کہیں ممکن ہوا کہیں واجب کہیں فانی کہیں بقا دیکھا دید اپنے کی تھی اسے خواہش آپ کو ہر طرح بنا دیکھا صورت گل میں کھل کھلا کے ہنسا شکل بلبل میں چہچہا دیکھا شمع ہو کر کے اور پروانہ آپ کو آپ […]

وہ جو اس کی صبح عروج تھی۔۔۔۔۔

اسے اپنے فردا کی فکر تھی، جو میرا واقفِ حال تھا وہ جو اس کی صبحِ عروج تھی، وہی میرا وقتِ زوال تھا میرا درد کیسے وہ جانتا، میری بات کیسے وہ مانتا وہ تو خود فنا کے سفر میں تھا، اُسے روکنا بھی محال تھا کہاں جاؤ گے مجھے چھوڑ کر، میں یہ پوچھ […]

جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے۔۔۔۔۔

‏کتنے عیش سے رہتے ہوں گے کتنے اتراتے ہوں گے جانے کیسے لوگ وہ ہوں گے جو اُس کو بھاتے ہوں گے شام ہوئے خوش باش یہاں کے میرے پاس آ جاتے ہیں میرے بجھنے کا نظارہ کرنے آ جاتے ہوں گے وہ جو نہ آنے والا ہے نا اُس سے مجھ کو مطلب تھا […]

کیا ہے قصد تو پھر۔۔۔۔

کیا ہے قصد تو سو بار سوچ ، حوصلہ کر یہ راہ عشق ہے ، دیوار سے بھی مشورہ کر اسے گلی سے تہی دست مت گزرنے دے شبِ سیاہ کو میرا چراغ ہدیہ کر دعا کے ساتھ مناسب ہے حیلہ جوئی بھی تو صرف تکیہء درویش پر نہ تکیہ کر میں آسمان سے سورج […]

موجیں بہم ہوئیں۔۔۔۔۔

موجیں بہم ہُوئیں ، تو کنارہ نہِیں رہا آنکھوں میں کوئی خُواب دوبارہ نہِیں رہا گھر بچ گیا کہ دور تھے، کچھ صاعقہ مزاج کچھ آسمان کا بھی اِشارہ نہِیں رہا بُھولا ہے کون ایڑ لگا کر حیات کو رُکنا ہی رخشِ جاں کو گوارا نہِیں رہا جب تک وُہ بے نشان رہا، دسترس میں […]

تمہارے بعد۔۔

تمہارے بعد اب ہر گز____ محبت ہو نہیں سکتی کسی دُوجے کے خاطر یہ سہولت ہو نہیں سکتی یہ اچھی بات ہے روتا نہیں ہوں____ سامنے ورنہ سبھی کے سامنے رونے سے__ عزت ہو نہیں سکتی تمہارے ساتھ رہتا تھا تو راحت تھی مرے دل کو تمہارے بن ہمارے دل کو__ راحت ہو نہیں سکتی […]

عمر کا بھروسہ کیا۔۔۔۔

ﻋُﻤﺮ ﮐﺎ ﺑﮭﺮﻭﺳﮧ ﮐﯿﺎ، ﭘَﻞ ﮐﺎ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﻣﯿﮟ، ﺍُﺱ ﺳﮯ ﺑﺎﺕ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺩِﻝ ﮐﯽ ﮔُﻨﮓ ﺳﺮﺷﺎﺭﯼ ﺍُﺱ ﮐﻮ ﺟِﯿﺖ ﻟﮯ، ﻟﯿﮑﻦ ﻋﺮﺽِ ﺣﺎﻝ ﮐﺮﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺣﺘﯿﺎﻁ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺟﺎﻧﮯ ﺳﮯ ﺻﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺍِﻧﺴﺎﮞ ﮐﮯ ! ﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﺎﻧﯽ ﮨﯽ، ﺑﮯ ﺛﺒﺎﺕ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺩِﻝ، ﺍﻭﺭ ﮐِﮭﻠﺘﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺩِﻝ […]

دل ملا اور غم شناس ملا۔۔۔۔

دِل مِلا ، اور غم شناس مِلا پُھول کو آگ کا لباس مِلا ہر شناور بھنور میں ڈوبا تھا جو سِتارہ مِلا ، اُداس مِلا مَیکدے کے سِوا ہمارا پتہ تیری زُلفوں کے آس پاس مِلا مُجھکو تقدیر کی گُزرگہ میں صرف تدبیر کا ہراس مِلا آبِ رضواں کی دُھوم تھی ساغرؔ سادہ پانی کا […]

لائیں دل پر خرابیاں جاناں۔۔۔۔

لائیں دل پر خرابیاں جاناں تیری آنکھیں گلابیاں جاناں ان دنوں وجہ اضطراب کی ہیں اپنی کم اضطرابیاں جاناں بن گئیں ترک شوق کا باعث شوق کی بے حسابیاں جاناں وقت کے بے کنار صحرا میں سب کے سب ہیں سرابیاں جاناں دشمن جاں ہے لفظ و معنی کا یہ گروہ کتابیاں جاناں بن گئیں […]

Back To Top