Category: شاعری

شاعری

تیری گفتار میں۔۔۔۔

تیری گفتار میں تو پیار کے تیور کم تھے کبھی جھانکا تیری آنکھوں میں تو ہم ہی ہم تھے . لمَس کے دم سے بصارت بھی ،بصیرت بھی ملی چھو کے دیکھا تو جو پتّھر تھے، نِرے ریشم تھے . تیری یادیں کبھی ہنستی تھیں، کبھی روتی تھیں میرے گھر کے یہی ہیرے تھے، یہی […]

یاد آتے ہیں۔۔۔۔

بھلاتا لاکھ ہوں لیکن برابر یاد آتے ہیں الٰہی ترک الفت پر وہ کیونکر یاد آتے ہیں نہ چھیڑ اے ہم نشیں کیفیت صہبا کے افسانے شراب بے خودی کے مجھ کو ساغر یاد آتے ہیں رہا کرتے ہیں قید ہوش میں اے وائے ناکامی وہ دشت خود فراموشی کے چکر یاد آتے ہیں نہیں […]

سمٹ نہ پائے۔۔۔۔

سمٹ نہ پائے کہ ہر سو بکھر گئے تھے ہم ہجوم یاس میں کیا سوچ کر گئے تھے ہم ہوئے تھے راکھ تو کچھ راستہ ہی ایسا تھا دبی تھی آگ زمیں میں جدھر گئے تھے ہم یہ کیا کہ پھر سے یہاں حکمرانئ شب ہے حصار شب تو ابھی توڑ کر گئے تھے ہم […]

کبھی کہا نہ۔۔۔۔

‏ کبھی کہا نہ کسی سے ترے فسانے کو نہ جانے کیسے خبر ہو گئی زمانے کو دعا بہار کی مانگی تو اتنے پھول کھلے کہیں جگہ نہ رہی میرے آشیانے کو مری لحد پہ پتنگوں کا خون بہتا ہے حضور شمع نہ لایا کریں جلانے کو سنا ہے غیر کی محفل میں تم نہ […]

صیاد تو امکان سفر کاٹ رہا ہے۔۔۔

صیّاد تو امکانِ سفر کاٹ رہا ہے اندر سے بھی کوئی مِرے پر کاٹ رہا ہے اے چادرِ منصب،،، تِرا شوقِ گُلِ تازہ شاعر کا تِرے‘ دستِ ہُنر کاٹ رہا ہے جس دِن سے شُمار اپنا پناہ گیروں میں ٹھہرا اُس دِن سے تو لگتا ہے،،، کہ گھر کاٹ رہا ہے کِس شخص کا دِل […]

ہر اک پرانا مکان قصر جم نہیں ہوتا۔۔۔

جمالِ یار کا دفتر رقم نہیں ھوتا کِسی جتن سے بھی یہ کام کم نہیں ھوتا تمام اُجڑے خرابے حسیں نہیں ھوتے ہر اِک پُرانا مکاں قصرِ جم نہیں ھوتا تمام عُمر رہء رفتگاں کو تکتی رھے کِسی نِگاہ میں اِتنا تو دم نہیں ھوتا یہی سزا ھے مِری اب جو مَیں اکیلا ھُوں کہ […]

دل بڑا سخت تھا ہر سنگ بلا جھیل گیا۔۔۔

موسمٍ گَل میں اگر شاخ سے ٹوٹے ہوتے کچھ شگوفے بھی اٍسی شاخ سے پَھوٹے ہوتے دل بڑا سخت تھا ہر سنگِ بلا جھیل گیا ورنہ ہم شدتٍ احساس سے ٹوٹے ہوتے تم کو جانا تھا تو پہلے ہی جدا ہو جاتے اس طرح روز کے مرنے سے تو چھوٹے ہوتے ہونٹ چپ چاپ سہی […]

تمہارے مطابق نظر آئیں کیسے۔۔۔

اپنے چہرے سے جو ظاہر ہے چھپائیں کیسے تیری مرضی کے مطابق نظر آئیں کیسے گھر سجانے کا تصور تو بہت بعد کا ہے پہلے یہ طے ہو کہ اس گھر کو بچائیں کیسے لاکھ تلواریں بڑھی آتی ہوں گردن کی طرف سر جھکانا نہیں آتا تو جھکائیں کیسے قہقہہ آنکھ کا برتاؤ بدل دیتا […]

چراغ مانگتے رہنے کا۔۔۔۔

چراغ مانگتے رہنے کا کچھ سبب بھی نہیں اندھیرا کیسے بتائیں کہ اب تو شب بھی نہیں میں اپنے زعم میں اِک بازیافت پر خوش ہوں یہ واقعہ ہے کہ مجھ کو ملا وہ اب بھی نہیں جو میرے شعر میں مجھ سے زیادہ بولتا ہے مَیں اُس کی بزم میں اِک حرفِ زیرلبِ بھی […]

قاتل اس شہر کا جب بانٹ رہا تھا منصب

پیچ رکھتے ہو بہت صاحبو دستار کے بیچ ہم نے سر گرتے ہوئے دیکھے ہیں بازار کے بیچ باغبانوں کو عجب رنج سے تکتے ہیں گلاب گل فروش آج بہت جمع ہیں گلزار کے بیچ قاتل اس شہر کا جب بانٹ رہا تھا منصب ایک درویش بھی دیکھا اسی دربار کے بیچ کج اداؤں کی […]

Back To Top