زندگی زہر بھی ہے، شہد بھی ہے۔۔۔
.ہار سے بھی امید لیتے ہیں جیتنے کی نوید لیتے ہیں زندگی زہر بھی ہے شہد بھی ہے ہم پہ ہے کیا کشید لیتے ہیں کتنے احساس لفظ ہیں رکھتے ہم ہی مطلب شدید لیتے ہیں خود کو مہنگا کیا بہت لیکن لوگ پھر بھی خرید لیتے ہیں غم گساری نہ تو سمجھ لینا سب […]
سبز مدھم روشنی میں۔۔۔
سبز مَدھم روشنی میں سُرخ آنچل کی دَھنک سَرد کمرے میں مَچلتی گرم سانسوں کی مَہک بازوؤں کے سخت حلقے میں کوئی نازک سا بدن سِلوٹیں ملبُوس پر اور آنچل بھی کچھ ڈھلکا ہوا گرمئ رُخسار سے دَہکی ہوئی ٹھنڈی ہوا نرم زُلفوں سے مُلائم انگلیوں کی چھیڑ چھاڑ سُرخ ہونٹوں پر شرارت کے کسی […]
تم سے ملتے ہیں تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں
تم سے ملتے ہیں تو دنیا سے بھی مل لیتے ہیں تم جو آتے ہو تو ترتیب الٹ جاتی ہے دھند جیسے کہیں چھٹ جاتی ہے نرم پوروں سے کوئی ہولے سے دل کی دیوار گرا دیتا ہے…. ایک کھڑکی کہیں کھل جاتی ہے آنکھ اک جلوہ صد رنگ سے بھر جاتی ہے کوئی آواز […]
غم دنیا جو نہ ہو گا، غم جاناں ہو گا
غمِ دنیا جو نہ ہو گا غمِ جاناں ہو گا گھر اجڑنے کا مرے کوئی تو ساماں ہو گا پاسِ غم، پاسِ وفا، پاسِ جنوں، پاسِ حبیب اور تم عشق کو کہتے تھے کہ آساں ہو گا اک ذرا شورشِ اندوہ وفا سے چھوٹوں فیصلہ پھر ترا اے گردشِ دوراں! ہو گا اے جنوں لے […]
کیا ہو گا۔۔۔۔۔
بکھرتا جسم میری جاں کتاب کیا ھو گا؟ تمہارے نام سے اب انتساب کیا ھو گا؟ تم اپنی نیند بھرے شہر میں تلاش کرو جو آنکھ راکھ ھوئی اس میں خواب کیا ھو گا؟ وہ میری تہمتیں اپنے بدن پہ کیوں اوڑھے میرے گناہ کا اس کو ثواب کیا ھو گا؟ ہوا میں اس کی […]
اونج تے نار اے ناراں ورگی۔۔۔۔
اوہدی چڑھت چناراں ورگی اونج تے نار اے ناراں ورگی جد وی کولوں لنگھ جاندی اے خوشبو سُٹّے ہاراں ورگی سردی وچ اے اَگ دا چاننڑ گرمی وچ پھواراں ورگی اوہ جے بولے بعد دی گل اے اوہدی چپ سِتاراں ورگی لکھ تے خَورے بوہتا ہووے لگدی نیئں ہزاراں ورگی لوکّاں لئی اوہ ساڑ تے […]
اتنے خاموش۔۔۔۔
اِتنے خاموش بھی رہا نہ کرو غم جُدائی میں یُوں کِیا نہ کرو خُواب ہوتے ہیں دیکھنے کیلئے اُن میں جا کر مگر رھا نہ کرو کُچھ نہ ہو گا گِلہ بھی کرنے سے ظالموں سے گِلہ کِیا نہ کرو اُن سے نِکلیں حِکائتیں شاید حُرف لِکھ کر مِٹا دِیا نہ کرو اَپنے رُتبے […]
دکھ ہے۔۔۔۔
مسلسل رائیگانی کا دکھ ہے ہائے مجھے گزری جوانی کا دکھ ہے وہ فقط لیتے تھے محبت کا نام مجھے اپنی خندہ پیشانی کا دکھ ہے وہ میرے دل۔میں گھر کر گیا مگر مجھے اپنی لامکانی کا دکھ ہے وہ جو چیخ رہی میرے اندر ہی اندر مجھے اپنی اس بے زبانی کا دکھ ہے […]
اے رات ہوشیار!!کہ ہارا نہیں ہوں میں
اوجھل سہی نِگاہ سے ڈوبا نہیں ہوں میں اے رات ہوشیار کہ ہارا نہیں ہوں میں دَرپیش صبح و شام یہی کَشمکش ہے اب اُس کا بَنوں میں کیسے کہ اپنا نہیں ہوں میں مجھ کو فرشتہ ہونے کا دعویٰ نہیں مگر جِتنا بُرا سمجھتے ہو اُتنا نہیں ہوں میں اِس طرح پھیر پھیر کہ […]
اب اس گلی میں بھی۔۔۔۔
تِری نِگاہ کے جادُو ــــــــ بِکھرتے جاتے ہیں جو زخم دِل کو مِلے تھے، وُہ بَھرتے جاتے ہیں تِرے بغیر ، وُہ دِن بھی گُزر گئے آخر تِرے بغیر ، یہ دِن بھی گُزرتے جاتے ہیں لیے چلو مُجھے دَریائے شوق کی موجو کہ، ہم سفر تو مِرے پار اُترتے جاتے ہیں تمام عُمر جہاں […]