میں نے ہی تم سے بے وفائی کی۔۔۔۔
نہ کٹی ہم سے شب جدائی کتنی ہی طاقت آزمائی کی رشکِ دشمن بہانہ تھا سچ ہے میں نے ہی تم سے بے وفائی کی دام عاشق ہے دل دہی نہ ستم دل کو چھینا تو دل ربائی کی آگے وہ دست غیر میں دے ہاتھ آس ٹوٹی شکستہ پائی کی گھر تو اس ماہ […]
روٹھنے والے منانا نہیں آیا مجھ کو۔۔۔۔
جھوٹ چہرے پہ سجانا نہیں آیا مجھ کو زندگی تجھ کو بتانا نہیں آیا مجھ کو رہ کے دنیا میں بھی سیکھی نہیں دنیا داری کر کے احسان جتانا نہیں آیا مجھ کو دنیا ٹھیٹر ہے تو ناکام اداکار ہوں میں کوئی کردار نبھانا نہیں آیا مجھ کو ایک ہی شخص کی خواہش میں رہا […]
موت دی نیت ٹھیک نہیں لگدی۔۔۔
ساہواں وچ شریک نئیں لگدی موت دی نیت ٹھیک نئیں لگدی میں چُپاں توں ڈریا پھرنا تینوں چیک وی چیک نئیں لگدی ساہ نوں ساہ ساہ پینا پیندا اِکو ساہے ڈیک نئیں لگدی کس مٹی دا بنیا ایں توں تینوں بھیک وی بھیک نئیں لگدی شامو شامی گھار کلیما اج طبیعت ٹھیک نئیں لگدی
کافر وہ زلف پر شکن۔۔۔۔
کافر وہ زلف پُر شِکن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف پھر اس پہ چشمِ سحر فن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف ہنگامِ رحلت دیکھیے ، دل کس طرف اپنا جُھکے بیٹھے ہیں شیخ و برہمن ، ایک اِس طرف ایک اُس طرف ہیں آسمانِ حُسن کے ، روشن ستارے مہ جبیں […]
شاید۔۔۔۔۔۔
مجھ سے پہلے تجھے جس شخص نے چاہا اس نے شاید اب بھی ترا غم دل سے لگا رکھا ہو ایک بے نام سی امید پہ اب بھی شاید اپنے خوابوں کے جزیروں کو سجا رکھا ہو میں نے مانا کہ وہ بیگانۂ پیمان وفا کھو چکا ہے جو کسی اور کی رعنائی میں شاید […]
تازہ ہیں ابھی یاد میں۔۔۔۔
تازہ ہیں ابھی یاد میں اے ساقئ گلفام وہ عکسِ رخِ یار سے لہکے ہوئے ایام وہ پھول سی کھلتی ہوئی دیدار کی ساعت وہ دل سا دھڑکتا ہوا امید کا ہنگام امید کہ لو جاگا غم دل کا نصیبہ لو شوق کی ترسی ہوئی شب ہو گئی آخر لو ڈوب گئے درد کے بے […]
آخری بار میں کب ہنسی تھی۔۔۔۔۔
جب ساز کی لے بدل گئی تھی وہ رقص کی کون سی گھڑی تھی اب یاد نہیں کہ زندگی میں میں آخری بار کب ہنسی تھی جب کچھ بھی نہ تھا یہاں پہ ماقبل دنیا کس چیز سے بنی تھی مٹھی میں تو رنگ تھے ہزاروں بس ہاتھ سے ریت بہہ رہی تھی ہے عکس […]
زندگی تو نے بڑی دیر لگا دی ورنہ۔۔۔۔
میں تہی دست محبت میں بھلا کیا دیتا تیرے حصے سے مگر تجھ کو زیادہ دیتا زندگی تونے بڑی دیر لگا دی ورنہ میں تجھے ملتا ترے گال پہ بوسہ دیتا میں زمانے کو بناتا تو زمانے بھر کو تیری آنکھیں ترا چہرہ ترا لہجہ دیتا تُو ٹھہرتا تو کوئی حل بھی نکل سکتا تھا […]
کوئی تیری زلفوں۔۔۔
کوئی تری زلفوں کا تمنائی ہے تو کوئی تری آنکھوں کا شیدائی ہے .. ہر لب پہ ترے حسن کا ہی چرچا ہے مشہور تری شہر میں رعنائی ہے .. اس شہر میں یوسف سا نہیں کوئی بھی ہر سمت زلیخا سی ادا چھائی ہے .. ہر غیر سے ملتا ہے تو جو ہنس ہنس […]
جینا ذرا محال نہیں۔۔۔
جینا ذرا محال نہیں کر سکے مرا دکھ منتشر جمال نہیں کر سکے مرا کل مسکرا رہے تھے سرِ بزمِ دوستاں تم ایک دن ملال نہیں کر سکے مرا کوشش تو کی مسیحا مگر زندگی کے ساتھ بس رابطہ بحال نہیں کر سکے مرا اتنی جوان مرگ تھی اور اس کے باوجود غم لوگ حسب […]